بشیر بدر کی یادیں: مشاعرہ، سفر اور ادبی بحثیں

بشیر بدر کی یادیں: مشاعرہ، سفر اور ادبی بحثیں

(تیسری قسط)

صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

1987ء کے چار اپریل کی صبح میرے دروازے پر مرحوم قاسم خورشید نے دستک دی اور یہ بتایا کہ افتخار امام صدیقی بمبئی سے ابھی پٹنہ جنکشن پہنچنے والے ہیں۔ انھوں نے ہدایت کی ہے کہ مجھے لے کروہ اسٹیشن آئیں۔ ہم دونوں پٹنہ جنکشن پر پہنچے اور بمبئی سے جب ٹرین آئی تو دیکھا کہ یک نہ شد دو شد؛ افتخار امام صدیقی کے پیچھے پیچھے ٹرین سے بشیر بدر وارد ہو رہے ہیں۔ وہاں معلوم ہوا کہ ہمارے وطن چمپارن میں نرکٹیا گنج میں بزم ’کہکشاں‘ کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ایک مشاعرے میں دونوں حضرات مدعو ہیں۔ افتخار امام صدیقی نے واضح لفظوں میں کہا کہ تمھارے علاقے میں مشاعرہ ہے تو ہم تمھارے بغیر نہیں جائیں گے۔ اس طرح ناچار ان دونوں شعرا کے ساتھ اس مشاعرے کے لیے مجھے رختِ سفر باندھنا پڑا۔
وہ زمانہ تھا جب بشیر بدر شہرت کے آسمان پر جگمگا رہے تھے۔ افتخار امام صدیقی بھی مشاعروں میں اپنے ترنم کا جادو جگانے لگے تھے۔ مشاعروں میں معاوضے کی رقم غیر معمولی نہیں ہوتی تھی جس کی وجہ سے شعرا مختصر دوری کے سفر میں مقامی ٹرین یا بس کا ہی استعمال کرتے تھے۔ پٹنہ سے بہ ذریعہ بس ہم ساتھ ساتھ مظفرپور پہنچے، وہاں سے ٹرین سے مغربی چمپارن کے صدر مقام بتیا کے لیے ٹرین پر سوار ہوئے۔ لوکل ٹرین میں بھیڑ بہت تھی، اس کے باوجود افتخار امام صدیقی کے سفید بال اور سفید جسم کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے بیٹھنے کے لیے ان کو جگہ دے دی۔ میں کوشش میں تھا کہ بشیر بدر کے لیے نیچے کہیں جگہ مل جائے لیکن گنجائش پیدا نہیں ہو سکی۔ بہ مشکل سامان رکھنے کے لیے بنے ہوئے لکڑی اور لوہے کے تختے پر کچھ جگہ بنی۔ بشیر بدر کی لمبی ٹانگ تھی، بہت خوشی سے انھوں نے کودتے ہوئے اوپر جگہ لے لی۔ لوگوں کو کسی طرح کھسکا کر میں نے بھی بغل میں بیٹھنے کی سہولت پیدا کر لی۔
بشیر بدر نے بات شروع کی کہ ہم لوگوں کی بات ادھوری رہ گئی، اسے مکمل کر لیں۔ ہوا یوں تھا کہ بس میں سفر کے دوران غزل اور نظم کے صنفی تفوق پر بحث شروع ہوئی۔ میں نے کہا کہ نظم کا مکمل طور پر بدل غزل کا ایک شعر نہیں ہو سکتا۔ بس پر چلتے ہوئے افتخار امام صدیقی بیچ بچاؤ کرتے رہے مگر ٹرین میں ہم اونچی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بھیڑ کے سبب ہماری آواز نیچے پہنچ نہیں رہی تھی، اس طرح ادبی مذاکرے میں ہم خود ہی ایک دوسرے سے زبانی طور پر گتھم گتھا ہو رہے تھے۔ بشیر بدر فطری طور پر غزل کی طرف داری میں تھے اور مجھ پر کلیم الدین احمد کی تحریروں کے اثرات بہت تھے، لہٰذا نظم کی طرف داری کے لیے شریکِ بحث تھا۔ ایم۔ اے کا طالب علم تھا، جوشِ علم حیرت انگیز پیدا ہو چکا تھا۔ کسی دوسرے سے متاثر ہونے کا آسانی سے سوال پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ مظفرپور سے ہم تین گھنٹے کا سفر کر کے بتیا پہنچ گئے مگر غزل اور نظم میں بڑی صنف کون ہے، اس کے لیے ہم ایک دوسرے کو متفق نہیں کر سکے۔ میں بار بار ارتکازِ خیال اور تصور کی مرکزیت کو اہمیت دیتے ہوئے نظم کی طرف داری میں نِت نئی منطقیں پیش کرتا رہا۔ بشیر بدر نے اس بات کا جواب یوں دیا کہ غزل کا ہر شعر ایک مکمل نظم کا بدل ہے کیوں کہ ہر شعر میں ایک مکمل خیال ادا ہوتا ہے اگر وہ ارتکاز نہ ہو تو شعر بگڑ جائے گا۔ اس طرح کی سینکڑوں منطقیں اور طرح طرح کی مثالیں ہم ایک دوسرے کے خلاف پیش کرتے رہے۔ اسٹیشن پر پہنچنے کے بعد ہماری بحث میں ایک وقفہ آیا۔ یوں تو ہمیں مشاعرے کے لیے ابھی تیس کلو میٹر اور آگے نرکٹیا گنج جانا تھا مگر افتخار امام صدیقی نے حکم دیا کہ پہلے بتیا اتر کر ہم تمہارے گھر چلیں گے اور تمھارے والد صاحب سے ملاقات کریں گے۔ میرے والد اشرف قادری سے ان کے خاندانی روابط تھے اور وہ اعجاز صدیقی اور سیماب اکبرآبادی کے دور سے رسالہ ’شاعر‘ میں چھپتے رہے تھے۔ میں نے سیدھے مشاعرہ گاہ تک پہنچنے کی وکالت کی تو افتخار امام صدیقی نے کہا کہ ابھی وقت ہے، ہڑبڑی کی کوئی بات نہیں۔ جب یہاں آچکے ہیں تو بھلا بزرگوار سے ملے بنا کیسے جائیں گے۔ بعد میں مجھے اندازہ ہوا کہ افتخار امام صدیقی ایک منصوبے کے تحت یہ کام کر رہے تھے۔ انھیں یہ معلوم تھا کہ کوئی ایک برس پہلے سے میں نے اپنے گھر اور خاندان سے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ اس سفر کو افتخار امام صدیقی نے رشتوں کی دوری میں ایک پل بنا کر استعمال کیا اور اپنے بزرگ ہونے کا ثبوت دیا۔ ایک ہی رکشے پر ہم تینوں بیٹھ کر اسٹیشن سے آگے بڑھے اور قریب میں ہی سول کورٹ میں ان دونوں کو لے کر والد صاحب کے پاس پہنچا۔ حیرت اور مسرت کے جذبات میں یہ ملاقات ہوئی۔ کچہری میں موجود بہت سارے وکلا بشیر بدر کی طرف لپکے اور ہاتھ ملاتے رہے۔ میرے والد صاحب نے کہا کہ مہمانوں کو لے کر میں گھر چلوں اور وہ پیچھے سے وہاں پہنچ رہے ہیں۔
پھر اسی طرح رکشے پر ہم تین سوار بیٹھ کر اپنے گھر پہنچے۔ لاتعلقی کی وجہ سے مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ میرا گھر پورے طور پر توڑ کر بنایا جا رہا ہے۔ گھر پہنچا تو بہ مشکل ایک کمرہ نما جگہ والدہ کے لیے رکھی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ دونوں مہمانوں کو وہیں بٹھایا جائے۔ جلدی میں کچھ کھانے کا انتظام ہوا۔ اس دوران والد صاحب بھی تشریف لائے۔ دن بھر کے ہم بھوکے پیٹ میں لقمہ ڈالنے کے بعد بشاش ہو گئے۔ ایک گھنٹے کے بعد پھر آگے کے لیے ٹرین تھی، ہم لوگ پھر اسی طرح لوکل ٹرین میں بیٹھ کر نرکٹیا گنج پہنچے۔ جہاں کسی لوج میں ٹھہرنے کے انتظامات تھے۔ نرکٹیا گنج چھوٹی سی جگہ تھی، آسائشوں والے ہوٹل نہیں تھے۔ ڈاکٹر مسلم شہزاد مرحوم اور دلشاد مرحوم کی کوششوں سے بزم کہکشاں قائم ہوئی تھی جس کے زیرِ اہتمام سالانہ مشاعرے ہوا کرتے تھے اور ادبی رونق پیدا ہو جاتی تھی۔
وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مشاعرے کی نظامت کے لیے ایک مقامی شاعر جو اب مرحوم ہو چکے ہیں، کوشاں ہیں کیوں کہ لوگوں کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ ملک زادہ منظور احمد 11 بجے رات کے بعد ہی شہر میں پہنچ سکیں گے۔ مشاعرہ کسی طور پر بھی 9 بجے سے پہلے شروع کر دینا تھا۔ بڑا مشاعرہ تھا، مجھے خدشہ تھا کہ وہ مقامی شاعر اسے سنبھال نہیں پائیں گے اور مشاعرہ بڑے شعرا کے رہنے کے باوجود بگڑ جائے گا۔ میں نے سکریٹری صاحب سے کہا کہ مشاعرے کی نظامت بشیر بدر سے کرا لیجیے۔ انھوں نے مجھ پر ہی یہ ذمہ داری عایدکر دی کہ آپ انھیں رضامند کرا لیجیے۔ بشیر بدر سے ملک زادہ صاحب کے پہنچنے میں دیر ہونے کی بات بتائی اور انھیں نظامت کے لیے تیار ہونے کی گزارش کرنے لگا۔ بشیر بدر نے دو شرطیں پیش کیں۔ نظامت کے لیے الگ سے بارہ سو روپے انھیں دیے جائیں۔ یاد رہے کہ اس وقت بشیر بدر کو غالباً تین ہزار روپے بہ طور معاوضہ دیے جا رہے تھے۔ منتظمین فوراً تیار ہو گئے۔ میں نے پوچھا کہ دوسری شرط بھی بتا دیں۔ انھوں نے کہا کہ جب میں ایک بار نظامت شروع کر دوں گا تو چاہے کوئی بھی آئے، میں مائک اسے نہیں سونپوں گا۔ مطلب صاف تھا کہ ملک زادہ صاحب اگر بعد میں آتے ہیں تو وہ نظامت نہیں کریں گے. یہ مشکل شرط تھی کیوں کہ انھیں لکھنو سے صرف اسی لیے بلایا جا رہا تھا مگر کوئی دوسرا چارۂ کار نہیں تھا۔
یہ بات معلوم رہے کہ اس زمانے میں اردو مشاعرے کا جو سب سے مضبوط گروہ تھا، اس میں ملک زادہ منظور احمد اور بشیر بدر کی جوڑی بہت مشہور تھی۔ کہنے والے یہ بھی کہتے تھے کہ ان دونوں نے مل کر کیسے کیسے شعرا کو محفل سے دور کیا یا داخل ہی نہیں ہونے دیا۔ یہ بھی خوب ہوا کہ بشیر بدر نے پہلے شاعر کو آواز دی۔ ایک طرف سے وہ شاعر مائک پر پہنچتا ہے اور لوگوں نے دیکھا کہ دوسری طرف سے چند شعرا کے ساتھ ملک زادہ اسٹیج پر وارد ہوتے ہیں۔ منتظمین بشیر بدر کی شرط سے بندھے ہوئے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ اس مشاعرے میں ملک زادہ منظور احمد شاعرِ محض کے طور پر مائک تک بلائے گئے اور انھوں نے ایک غزل پڑھ کر اپنی شمولیت کا فریضہ ادا کیا اور پھر اسٹیج پر پیچھے جا کر بیٹھ گئے۔
اس مشاعرے کی تاریخ یوں یاد رہ گئی کہ اسی رات مشاعرے کے افتتاحی جلسے کے دوران یہ خبر آئی کہ ہندی کے عہد ساز شاعر اگیے رخصت ہو گئے۔ اس مشاعرے میں بشیر بدر کو دعوتِ کلام دینے کے لیے افتخار امام صدیقی مائک پر آئے۔ وہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا۔ افتخار احمد صدیقی نے پیش بندی شروع کی کہ ہم نے میر اور غالبؔ کو نہیں دیکھا۔ انیسویں صدی کے بعض شعرا کی پیش کش کے بارے میں’ آب حیات‘ پڑھ کر سیر ہوئے ہیں مگر آج کے زمانے کے سامعین کے لیے یہ فخر کا مقام ہے کہ وہ اعلان کریں کہ انھوں نے بشیر بدر کو دیکھا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم بشیر بدر کے عہد میں جی رہے ہیں۔
مشاعرہ صبح تک چلتا رہا اور بشیر بدر کی گل افشانیِ گفتار جاری رہی۔ دوپہر میں ہم لوگ پھر تیس کلومیٹر دور بتیا آگئے۔ ایک روز پہلے ہی منظرسلطان اور ایم۔ایم۔ وفا سے میں نے شام میں ایک مشاعرہ منعقد کرنے کے لیے کہہ دیا تھا۔ بشیر بدر بغیر کسی معاوضے کے ہمارے وطن کا خیال رکھتے ہوئے تیار ہو گئے۔ اس شام مقامی شعرا کے ساتھ یتیم خانہ بدریہ کے احاطے میں لوگوں نے بشیر بدر اور افتخار امام صدیقی کو جی لگا کر سنا۔ یہ بات بھی سمجھ میں آئی کہ عوامی مجمع اور خواص کے حلقے میں پڑھنے کے لیے دونوں نے مختلف انداز کے کلام کا انتخاب کیا تھا اور خواص نے بھی انھیں دل کھول کر داد دی۔
اگلے روز پھر بس اور ٹرین سے ہم عظیم آباد وارد ہوئے جہاں سے دیر رات کو دونوں حضرات کو واپس ہونا تھا۔ میں نے بہ عجلت بہار اردو اکادمی کے ہال میں بشیر بدر اور افتخار امام صدیقی کے اعزاز میں ایک نشست رکھ دی۔ جلدی جلدی ہر حلقے میں لوگوں کواطلاع دی گئی اور بشیر بدر کے نام سے ایک مجمع وہاں پہنچ گیا۔ ترکیب یہ رکھی گئی تھی کہ انھی دونوں شعرا سے ان کی باتیں سنی جائیں اور زیادہ سے زیادہ ان کا کلام سنا جائے۔ مقامی شعرا ہرگز ہرگز اپنا کلام نہیں پیش کریں گے۔ بشیر بدر سے یہ گزارش کر دی گئی کہ اپنی شاعری اور اپنے عہد کے بارے میں بھی وہ گفتگو کرتے چلیں۔ اب وہ مشاعروں میں خوب خوب بولنے لگے تھے اور تازہ تازہ اپنے فضائل و کمالات کے حصار میں بھی مقید ہوئے تھے۔ بشیر بدر نے میرؔ کے 72 نشتر اور اسی طرح اپنے 72 یا اس سے کچھ زیادہ تعداد کے چنندہ اشعار کا دعوا پیش کیا۔ ان سطور کے لکھتے ہوئے اس مجلس کا پورا نقشہ یاد آ جاتا ہے۔ بشیر بدر میرؔ یا بڑے شاعروں کا نام لیتے ہوئے کبھی گالوں پر تھپکیاں دیتے یا اپنے کان پکڑتے یا دونوں ہاتھ جوڑ کر عوام کی عدالت میں یا خدا کو حاضر و ناظرجان کر معافی کے طلب گار ہوتے۔ بار بار کہتے ،خدا جھوٹ نہ بلوائے۔ وہ کہتے: مگر میں نے بھی ستر بہتریا اس سے بڑھ کر ایسے اشعار پیش کر دیے ہیں جو کبھی بھلائے نہیں جا سکیں گے۔ لفظوں اور باڈی لنگویج میں انکسار اور معنی میں تکبر کا عجیب و غریب منظر زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔ بشیر بدر بعد کے دور میں تو اس انداز سے گفتگو کرنے کے ایسے عادی ہوئے کہ رفتہ رفتہ علمی حلقہ ان کی شاعرانہ خصوصیات کے باوجود ان کی اس کجی سے خود کو الگ تھلگ کرنے کے لیے مجبور ہوا۔
اس کے بعد مختلف مواقع سے عظیم آباد، دلی، بھوپال اور کچھ دوسری جگہوں پر بشیر بدر سے ملاقاتیں رہیں۔ ان کی شہرت اور بدلتی ہوئی زندگی کو بھی دیکھنے سمجھنے کے مواقع ملے مگر اس سفر کا نقش کچھ ایسا قائم ہوا کہ بشیر بدر کی شخصیت کو سمجھنے کے نہ جانے کتنے ذرائع ہمیں وہاں میسر آ گئے۔ اب بھی اس ذاتی ملاقات اور سفر میں بشیر بدر کو جیسے جانا، اسی روشنی میں اب بھی ان کی شخصیت کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہوں۔
***
(اردو کی جدید شاعری میں بشیر بدر کا شناخت نامہ کیا ہے، اسے آئندہ ملاحظہ کریں)
پہلی اور دوسری قسط یہاں پڑھیں :بشیر بدر کا انتقالِ پُرملال

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے