کتاب : الفاظ کی دنیا

کتاب : الفاظ کی دنیا

احمد حاطب صدیقی

سچ پوچھیے تو یہ دنیا الفاظ کی دنیا ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام جب اس دنیا میں بھیجے گئے تو”علم الاسما“ سے بہرہ مند کر کے بھیجے گئے۔ انسان اس زمین پر آیا تو ” علم“ کے ساتھ آیا اور زندگی کی ابتدا علم کے ساتھ ہوئی۔ قرآنِ مجید کی 55 ویں سورۃ میں اللہ تعالی نے بتایا ہے کہ جس رحمٰن نے قرآن کی تعلیم دی ہے، اُسی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اپنے خیالات کو زبان سے بیان کرنے کا سلیقہ سکھایا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے جس طرح شہد کی مکھی کو پھولوں سے رس کشید کر کے شہد بنانا سکھایا اسی طرح انسان کو الفاظ بنانا اور اشیا کے نام رکھنا سکھایا۔ پھر سورۃ العلق کی ابتدائی آیات میں ہمیں بتایا گیا کہ قلم کا استعمال بھی انسان کو اللہ تعالیٰ ہی نے سکھایا ہے۔ سورۃ الروم کی 22 ویں آیت میں بتایا گیا کہ انفس و آفاق میں پائی جانے والی دیگر نشانیوں کی طرح زبانوں کے اختلاف یا زبانوں کے فرق میں بھی اہلِ علم و دانش کے لیے اللہ کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ حاصلِ کلام یہ کہ الفاظ و معانی کے جہان کی کھوج لگانا، چھان بین کرنا، تلاش و جستجو کرنا، تحقیق و تفتیش کرنا اور الفاظ کے جہان کی سیاحت کرنا اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ کرنا ہے، کیوں کہ یہ سب کچھ اتفاقاً سرزد نہیں ہو گیا، یہ تمام پیش رفت اور یہ سارا ارتقا ایک حکیم و دانا خدائے مہربان کی حکمت و تدبیر کا شاہکار ہے۔
​اُردو زبان بھی دنیا کی زبانوں میں ایک شاہکار زبان ہے۔ اس زبان کی ابتدا بر عظیم میں ہوئی مگر اب دنیا کا شاید ہی کوئی گوشہ ایسا ہو جہاں اُردو بولنے والے نہ پہنچے ہوں۔ علم و ادب کے ساتھ ساتھ تکنالوجی کےمیدان میں بھی اُردو نے بڑی تیزی سے پیش قدمی کی ہے۔ آج اُردو زبان دنیا کی قدیم ترین زبانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ تمام علوم (بہ شمول سائنسی علوم) کی اُردو کتب سے نہ صرف کتب خانے بھرے ہوئے ہیں بلکہ یہ ذخیرہ جدید دنیا کے ”برقی خزینوں" میں بھی موجود ہے۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت جاپان سے لے کر کینیڈا تک مختلف ممالک کی جامعات میں اُردو کی تدریس کے شعبے قائم کیے گئے ہیں۔ گُوگل، فیس بُک، واٹس ایپ اور انسٹا گرام جیسے تمام برقی تجارتی اداروں پر اُردو موجود ہے۔ موبائل فون پر اُردو تحریر کر نے کے لیے برقی بازار سے اُردو کی تختیاں فون میں مفت اُتاری جا سکتی ہیں۔ الغرض، سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے۔
​ایک طرف اُردو کی یہ فتوحات اور پیش قدمیاں ہمارے لیے باعثِ فخر و انبساط ہیں تو دوسری طرف تشویش اور تردُّد کی بات یہ ہے کہ انگریزی ذریعۂ تعلیم کی وجہ سے ہمارے ہی بچے اُردو سے نابلد ہوتے جا رہے ہیں۔ تلفظ غلط، املا غلط، انشا غلط، مضموں غلط۔ زبان نہ سکھانے کی وجہ سے یہی بچے بڑے ہونے کے بعد بھی اُردو کا بیڑا غرق کرتے رہتے ہیں۔
​نئی نسل کی غلط اُردو پر اعتراض تو بہت لوگ کرتے رہتے ہیں، مگر ڈاکٹر حلیمہ فردوس نے اس مرض کا علاج کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے”الفاظ کی دنیا" کے نام سے بچوں کے لیے لسانی کھیلوں کی ایک کتاب مرتب کر دی ہے۔ کتاب بہت دل چسپ، جامع اور تدریسی نقطۂ نظر سے بے حد مفید ہے۔ ان کھیلوں کی بنیاد تجسس اور غور و فکر پر رکھی گئی ہے۔ بچے جوں جوں اس کھیل کے میدان میں آگے بڑھتے ہیں، اُن میں اُردو کی مہارت اور اچھی اُردو لکھنے اور بولنے کی صلاحیت پروان چڑھتی جاتی ہے۔
​”الفاظ کی دنیا" میں مجموعی طور پر ستّاسی (87) کھیل جمع کیے گئے ہیں۔ پہلا کھیل سب سے آسان ہے اور آخری کھیل معلومات و مہارت کا مشکل امتحان۔ پہلے کھیل میں مفرد حروف کی مدد سے لفظ سازی کا مقابلہ ہے تو آخری کھیل میں تصاویر کی مدد سے اُردو کے مشہور ادیبوں اور شاعروں کی شناخت کا مرحلہ۔ اس طرح ان کھیلوں کو بتدریج آسان سے مشکل اور مشکل سے مشکل تر کی طرف لے جایا گیا ہے۔ یہ تمام کھیل نہ صرف ذہنی ورزش کا موقع مہیا کرتے ہیں بلکہ درست املا، درست تلفظ اور قواعد و انشا کی درستی سے واقفیت بھی پیدا کرتے ہیں۔
​ان دل چسپ اور باتصویر کھیلوں میں ہر کھیل کے کھلاڑیوں کی تعداد مقرر کی گئی ہے، کھیل کتنے وقت میں مکمل کرنا ہے اس کا تعین کیا گیا ہے اور کھیل سے حاصل ہونے والے نمبر دیے گئے ہیں۔ کھیلوں کے عنوانات بھی مزے دار اور ادبی رنگ لیے ہوئے ہیں۔ مثلاً کھیل نمبر 4 میں اخبار بینی کی ترغیب دی گئی ہے، جس کا عنوان ہے "سُرخیاں پڑھیے سُرخ رُو ہو جائیے"۔ کھیل نمبر 8 میں یکساں تلفظ رکھنے والے یا ایسے ہم آواز الفاظ کے معنوی فرق بتانے کا مقابلہ ہے جن کا املا مختلف ہے یا اعراب بدلے ہوئے ہیں۔ چوں کہ ان الفاظ کے جال میں پھنس جانے کا اندیشہ رہتا ہے، چناں چہ اس کھیل کا عنوان رکھا گیا ہے "بُرے پھنسے"۔ اسی طرح موزوں محاوروں کے امتحان کے لیے کھیل نمبر 59 میں کچھ ایسے محاورے بھی جمع کیے گئے ہیں جن کے ساتھ لاحقے کے طور پر” کھانا" آتا ہے، مثلاً قلابازی کھانا، مار کھانا اور منہ کی کھانا وغیرہ۔ اس کھیل کا عنوان ہے "کام اور بھی ہیں کھانے کے سِوا"۔
​ہرکھیل کی ابتدا میں ہدایات دی گئی ہیں اور کتاب کے آخر میں تمام کھیلوں کے درست جوابات دیے گئے ہیں۔ ہمارے بچوں کی خاطر اس پُرمشقت کام کی تکمیل پر ڈاکٹر حلیمہ فردوس ہم سب کی طرف سے شکریے کی حق دار ہیں۔
"الفاظ کی دنیا" پریس فار پیس پبلی کیشنز نے پُرکشش سرورق اورعمدہ طباعت کے ساتھ اچھے کاغذ پر شائع کی ہے۔ کُل صفحات 118 ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب حاصل کرنے کے لیے پریس فار پیس پبلی کیشنز سے رابطہ کیا جاسکتا ہے.
**
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :کتاب: "منتخب افسانے"

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے