تخلیقِ ادب میں اے آئی سوائے فریب اور سراب کے کچھ نہیں : خان حسنین عاقب

تخلیقِ ادب میں اے آئی سوائے فریب اور سراب کے کچھ نہیں : خان حسنین عاقب

مصاحبہ کار: تسنیم جعفری
ادیب اطفال، مدیر : ماہنامہ زیست، لاہور

قارئین کرام! السلام علیکم
آج ہمارے درمیان برصغیر میں اردو ادب کے حوالے سے منفرد شناخت کے حامل شاعر، ادیب اور مترجم خان حسنین عاقب موجود ہیں۔ حسنین عاقب کے تعارف کے لیے ان کا نام ہی کافی ہے لیکن اردو، انگریزی اور فارسی ادب میں ان کی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ عاقب صاحب 8 جولائی 1971 کو ہندستان کی ریاست مہاراشٹر کے شہر آکولہ میں محمد شہباز خان کے گھر پیدا ہونے۔ آپ کا حقیقی نام قدم حسنین خان ہے لیکن آپ دنیاے ادب میں خان حسنین عاقب کے نام سے معروف ہیں۔ آپ نے اردو، انگریزی، تاریخ میں ایم. اے، ماسٹر ان ایجوکیشن (ایم.ایڈ)، ماسٹر ان سوشل ورک، (ایم. ایس. ڈبلو) اور ایل. ایل. بی جیسی ڈگریاں حاصل کیں۔ آپ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ غزل گوئی، ترجمہ نگاری اور ادب اطفال آپ کا ادبی تخلیقی اختصاص ہے۔ حسنین عاقب کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے انگریزی زبان میں نعت کے لیے "پروفی ایم" کی اصطلاح وضع کی۔ پروفی ایم کا مجموعہ زیر اشاعت ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے قرآن پاک کے آخری پارے کی تمام سورتوں کا انگریزی زبان میں منظوم ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے مادری زبان سے دیگر زبانوں میں ترجمہ نگاری کے لیے معکوس ترجمہ نگاری کی اصطلاح وضع کی اور کثرت سے معکوس تراجم کیے جن میں اردو سے انگریزی، مراٹھی اور فارسی زبانوں میں منظوم و منثور ترجمے شامل ہیں۔ انھیں اردو کے علاوہ ہندی، مراٹھی، انگریزی اور فارسی زبانوں پر بھی عبور حاصل ہے۔ وہ اردو زبان و ادب کی تدریس، مشاعروں، ادبی و علمی کانفرنسوں، سیمیناروں میں شرکت، اردو (غزل گوئی اور نظم نگاری) اور انگریزی میں شاعری، مراٹھی، انگریزی، ہندی اور فارسی سے اردو میں ترجمہ نگاری، اردو سے ہندی، مراٹھی اور انگریزی میں ترجمہ نگاری، ادبی، لسانی اور علمی تحقیق ادبی تنقید نگاری، قومی اور ریاستی سطح پر درسی اور نصابی کتابوں کی تصنیف و تالیف اور نصاب سازی جیسی علمی و ادبی سرگرمیوں میں قومی و بین الاقوامی سطح پر شرکت کرتے ہیں۔ انھیں اب تک مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ایوارڈز تفویض کیے جاچکے ہیں جن میں قومی سطح پر بیسٹ لینگویج ٹیچر ایوارڈ (نئی دہلی)، نیشنل ایوارڈ فار ایکسی لنس ان ایجوکیشن، (نئی دہلی)، مثالی معلم ایوارڈ (حکومت مہاراشٹر، ممبئی) شانِ غزل ایوارڈ برائے مجموعی خدمات، مخلص مصوری ایوارڈ برائے شاعری جیسے باوقار ایوارڈ شامل ہیں۔ آئیے، ہم حسنین عاقب صاحب سے اپنے مصاحبے یعنی انٹرویو کا آغاز کرتے ہیں۔


سوال: حسنین عاقب صاحب، ہمارے قارئین جاننا چاہیں گے کہ آپ نےلکھنا کب اور کیسے شروع کیا؟ اور اس کے پیچھے محرک کیا تھا؟
حسنین عاقب: بہت شکریہ جو آپ نے اتنا تفصیلی تعارف پیش کیا۔ جی، آپ کے سوال کے جواب میں کہوں گا کہ ہمارے لکھنے کا آغاز تو ٹین ایج سے ہی ہوگیا تھا۔ سب سے پہلے انگریزی میں شعر کہنا شروع کیا۔ حالانکہ مادری زبان اردو تھی لیکن چونکہ حالات کے پیش نظر اندیشہ تھا کہ گھر میں اردو شعر گوئی کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی اس لیے اپنی ذات کے اندرون میں پلنے والے اضطراب کو باہر نکلنے کا راستہ دکھانا بنیادی ترجیح بن گیا۔ اور یوں ہماری شعرگوئی کی شروعات ہوئی۔
لکھنے کی تحریک دراصل ذات کے کرب اور تجربات و حوادث کی سختی سے ملی۔ ورنہ شاید تن آسانی میسر ہوتی تو اظہارِ ذات کی بے تابی و بے قراری کسی گوشے میں اپنی بالیدگی کا انتظار کرتے کرتے جمود کا شکار ہوجاتی۔
سوال: اچھا ادب کیسا ہونا چاہئے۔ کیا آج کا ادیب اپنے فرائض پورے کر رہا ہے؟
حسنین عاقب: اچھا ادب وہ ہوتا ہے جو اپنے سماجی سروکاروں کو اولیت دیتا ہو۔ ادب تفنن طبع کے لیے تخلیق نہیں کیا جاتا بلکہ ادب سماج اور فرد کا آئینہ ہوتا ہے، مجموعی طور پر ادب انسانی زندگی کا عکاس ہوتا ہے۔ بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر میں یہ کہتا ہوں کہ ادب ہی نہیں بلکہ دنیا کا ہر قدیم و جدید آرٹ فارم انسانی زندگی کا عکاس ہوتا ہے، پھر چاہے وہ مصوری ہو، گلوکاری ہو، ادبی تخلیق ہو یا پھر کچھ اور۔ رہی بات یہ کہ آج کا ادیب اپنا یہ فریضہ انجام دے رہا ہے یا نہیں تو مجھے لگتا ہے کہ سماج کی عکاسی کا فریضہ انجام دینے کی گنجائشیں فی زمانہ کم ہوچکی ہیں کیونکہ بہت کچھ تو پہلے کہا جا چکا ہے، آج کے ادیب و شاعر کے لیے کرنے کو بہت کچھ باقی نہیں رہا۔ اس لیے کئی ناقد مانتے ہیں کہ آج کل جگالی زیادہ ہورہی ہے، جو کچھ بچا ہے وہ ایک ادیب کو شہرت اور پیسہ کمانے میں مدد کررہا ہے۔ اسی لیے بڑا ادب کم از کم ہماری اردو زبان میں تو اس تناسب میں تخلیق نہیں ہورہا جتنا دوسری زبانوں میں ہورہا ہے۔
سوال: آپ کا آبائی شہر اور موجودہ رہائش؟ 
حسنین عاقب: آبائی شہر بھارت کی ریاست مہاراشٹر کا مردم خیز شہر آکولہ ہے لیکن گذشتہ تیس برسوں سے ملازمت کے سلسلے میں اسی ریاست کے دوسرے شہر پوسد میں رہائش پذیر ہوں۔
سوال: آپ کوئی پسندیدہ شعر/نظم/غزل؟
حسنین عاقب: اگر آپ کی مراد ہماری اپنی پسندیدہ تخلیقات سے ہے تو جواب حاضر ہے۔
پسندیدہ شعر:
اتنے نزدیک سے پرکھو نہ کسی کو عاقب
زوم کرنے سے بھی تصویر بگڑ جاتی ہے
پسندیدہ نظم:
محبت اور فاصلے
حسنین عاقب
سنا ہے فاصلے ہوں تو محبت روٹھ جاتی ہے
مگر یہ بھی تو سچ ہے کہ
محبت فاصلوں کو کب بھلا خاطر میں لاتی ہے
محبت میں تکلف آنے جانے کا نہیں ہوتا
محبت میں کوئی بھی ڈر زمانے کا نہیں ہوتا
محبت ایسا پودا ہے کہ جو خاروں میں پلتا ہے
مگر خاروں کا دل بھی اس محبت سے دہلتا ہے
محبت آزمائش کی سرنگوں سے گزرتی ہے
اگر ہو آزمائش تو محبت بھی نکھرتی ہے
مگر کچھ فاصلے ایسے بھی ہوتے ہیں
کہ جیسے ریل کی دو پٹریاں ہیں
کہ جوں دو ہاتھ اور ان کی انگلیاں ہیں
کہ جیسے چہرے پر ہیں دو دو آنکھیں
کہ یہ سب ساتھ چلتے ہیں
مگر ہے فاصلہ ان میں
الگ بھی ہیں مگر گہرا سا ہے اک رابطہ ان میں
سنو پھر جو مصیبت اب کے ہے درپیش ہم کو
تو پھر ہم آزمائش ہی سمجھتے ہیں ستم کو
ضروری ہیں اگر یہ فاصلے تو یوں سہی عاقبؔ
زمانے کی خوشی ہی میں ہے اپنی بھی خوشی عاقبؔ
اگر یوں ہے تو پھر ان فاصلوں کی حیثیت کیا ہے
محبت ہے درخشاں تو پھر ان کی اہمیت کیا ہے!
پسندیدہ غزل:
کچھ سلسلے فلک کے پڑے ہیں اجاڑ سے
رشتے بنے ہوئے ہیں زمیں کے پہاڑ سے
بے جرم، بے گناہ اسیروں کی خیر ہو
آتی ہیں دم بدم یہ صدائیں تہاڑ سے
بدنام ہوتا ہے وہ جو آگے دکھائی دے
جلوہ دکھاتا اور ہی کوئی ہے آڑ سے
تم تو چلے گئے مری دنیا کو چھوڑ کر
لگ کر کھڑا ہے کون یہ دل کے کواڑ سے
آندھی چلے کبھی تو سلامت رہو گے نا
پودے نے سر اٹھا کے یہ پوچھا ہے جھاڑ سے
بے فیض سربلندی کے قائل نہیں ہیں ہم
ملتا نہیں ہے سایہ مسافر کو تاڑ سے
کتنے عجیب لوگ ہیں عاقبؔ تمہارے ساتھ
ہیروں سے بیر عشق ہے جن کو کباڑ سے
پسندیدہ مشغلہ؟
حسنین عاقب: مشغلہ ہمیشہ مطالعہ رہا ہے۔ بچپن ہی سے اسی کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔ البتہ موجودہ دور میں جب سے تکنیکی وسائل نے اپنے ہاتھ پیر پھیلائے ہیں، کتابوں کی خوشبو کے ساتھ ساتھ دیگر وسائل بھی سامنے ہوتے ہیں لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ کتابوں کے مقابلے میں دیگر وسائل کاغذی پھول ثابت ہوتے ہیں جو طبعی ذوق کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔
پسندیدہ قول؟ 
حسنین عاقب: جو آپ کے الفاظ نہیں سمجھ سکتا وہ آپ کی خاموشی کو کیا خاک سمجھے گا!
سوال: زندگی میں آپ کا کوئی خواب؟
حسنین عاقب: دنیا میں آج کل جتنا انتشار ہے اس کے پیش نظر میرا خواب یہ ہے کہ وقت کو کم از کم ایک صدی پیچھے لے جایا جائے جہاں لوگوں میں ہوس، مکاری اور تشدد منفیت اگر تھی بھی تو بہت کم تھی اور ایک دوسرے کا احترام، عزت اور قدر کی اتنی کمی نہیں تھی جتنی آج ہے۔ میرے خواب میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بچے بچہ بن کر ہی بڑے ہوں، بچپن میں ہی بڑے نہ ہوجائیں۔
مجھے اپنا ہی شعر یاد آرہا ہے :
بڑا ہونے پہ یہ بچے اڑے ہیں
ہے پچھتاوا ہمیں کہ ہم بڑے ہیں
مقصدِ حیات؟ 
حسنین عاقب:انسان انسان بن کر رہے اسی میں اس کے وجود کی معراج ہے۔ میرا مقصد حیات اپنے اطراف کے لوگوں کی زندگی میں مثبت سوچ اور مثبت زاویہ نظر کو فروغ دینا ہے۔ مثبت سوچ اور وسیع وژن انسان کو انفرادی طور پر ہی نہیں بلکہ سماج کو مجموعی طور پر مستحکم بناتی ہے۔ امید پر ہی دنیا قائم ہے اس لیے خالق اور مخلوق کے رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے بھی انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ اور فکر کو صاف، مثبت اور وسیع بنائے رکھے اور اسی کو اپنا مقصد حیات سمجھے۔
آپ کی پسندیدہ کتاب؟ 
حسنین عاقب: الگ الگ زبانوں میں الگ الگ کتابیں پسند ہیں۔ ان میں موضوعات کا بھی تنوع ہے اور طرز و اسلوب نگارش کا بھی۔ کتابوں کے نام نہیں لوں گا البتہ پسندیدہ مصنفین اور شعرا کے نام ضرور بتانا چاہوں گا۔ اردو میں لڑکپن سے ابن صفی کو پڑھ پڑھ کر بڑے ہوئے۔ شاعری میں اقبال ہماری محدود دنیا کا مرکز تھے۔ بڑے ہوئے تو مولانا ابوالکلام آزاد جیسی ہر اچھی نثر پسند آئی، شاعری میں میر، غالب، مومن، داغ، فیض وغیرہ نے دامن کھینچا۔ مزاح میں پطرس بخاری، فکر تونسوی، مشتاق احمد یوسفی، کرنل محمد خان وغیرہ بک شیلف کا حصہ بنے۔ ادب اطفال میں افسر میرٹھی، اسماعیل میرٹھی، شفیع الدین نیر، مائل خیر آبادی، صوفی غلام مصطفی تبسم وغیرہ ساتھ ساتھ رہے۔ تمام زمروں، موضوعات اور مصنفین و شعرا کی فہرست طویل ہے۔ ان میں ہمارے علاقائی تخلیق کار جن کا تعلق مہاراشٹر کے تاریخی علاقہ برار سے ہے، بھی شامل ہیں جنھوں نے بڑا اچھا ادب تخلیق کیا ہے۔
آپ کی پسندیدہ شخصیت؟
حسنین عاقب: پسندیدہ شخصیت اللہ کے رسول کے علاوہ کون ہوسکتی ہے! لیکن اگر معاصر دنیا میں شخصی اوصاف کی بنیاد پر پسندیدہ شخصیات کی بات کریں تو وقار، لہجے کے ٹھہراؤ اور شائستگی کے لحاظ سے دلیپ کمار، سادگی اور خداترسی کے لحاظ سے محمد رفیع پسند رہے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں فلموں کا بہت پرستار ہوں۔ میں ادب، آرٹ اور انسانی شخصیت کے وقار کا بہت دل دادہ ہوں اس لیے الگ الگ شعبہ ھاے حیات سے مزید بہت سی شخصیات میری پسندیدہ ہوسکتی ہیں لیکن میری پسند کا معیار اعلیٰ انسانی قدروں کے ارد گرد گھومتا ہے۔ چھچھورا پن مجھے بالکل پسند نہیں۔
کیا آپ بچپن میں شرارتی تھے؟
حسنین عاقب: جی، اتنے شرارتی تو ضرور تھے ہم کہ بچہ کہلا سکیں لیکن اتنے شرارتی بھی نہیں تھے کہ محض شرارتوں پر پٹائی ہوجائے۔ نہ ہی اتنے شرارتی تھے کہ ہماری شرارتیں یاد رہیں۔ یوں سمجھیے کہ بس واجبی سے شرارتی تھے۔
اگر آپ کو اختیار دیا جائے تو اردو ادب خصوصا ادب اطفال کے لیے کیا اقدامات کریں گے؟
حسنین عاقب: ادب اطفال میں تخلیقی اعتبار سے بہت گنجائشیں باقی ہیں۔ ہمارے یہاں ادب اطفال میں سواے پند و نصیحت اور اخلاقیات کے بھاری بھاری ڈوز کے دوسری چیزیں بہت کم ملتی ہیں۔ ادب اطفال میں نہ اسلوب میں تازگی پائی جاتی ہے اور نہ ہی طرزِ نگارش پر محنت۔ ہمارے یہاں پیری پوٹر کے معیار کی کوئی چیز موجودہ عہد میں نہیں ملتی۔ بیسویں صدی کے چچا چھکن بھی انگریزی ادب کے انکل پاجر سے مستعار ہیں۔ ادب اطفال میں تحقیق اور تنقید بھی معیاری نہیں ہے۔ تحقیق تو بس اختر شماری اور رائے شماری تک محدود ہے۔
ان حالات کے پیش نظر اگر مجھ سے خواہش کی گئی اور مجھے اختیار دیا گیا تو میں سب سے پہلے ادب اطفال کو مین اسٹریم ادب میں سنجیدہ مقام دلانے کے لیے کوشش کروں گا۔ ادب اطفال کے فروغ کے لیے اکیڈمیاں قائم کرنا بھی میری ترجیح ہوگی اور ادب اطفال میں منفرد کام کرنے والے افراد اور اداروں کے لیے ایوارڈز کا سلسلہ بھی شروع کروں گا۔ یہ کام بین الاقوامی سطح پر ہوگا۔
آپ کی تحریر میں کن موضوعات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے؟
حسنین عاقب: میری تحریروں میں سب سے واضح اور کھل کر نمایاں ہونے والا موضوع مثبت سوچ، اونچا وژن اور زندگی ہے۔ ان عوامل کے بغیر ایک اچھا ادب اونچائی کا سفر طے نہیں کرسکتا۔ میرا نصب العین ہی ادب برائے زندگی ہے۔ میں ادب برائے فن کا قائل کبھی نہیں رہا۔ زندگی ادب کا موضوع ہے اور ادب زندگی کا آئینہ اور یہی موضوعات وسیع پیمانے پر اپنی تمام تر انفرادیت اور اسلوبی تزئین کاری کے ساتھ میری تخلیقات کے اہم موضوعات ہیں. 
آپ کی اب تک کی سب سے اہم تحریر کون سی ہے اور کیوں؟
حسنین عاقب: دیکھیے، کون سی تحریر اہم ہے کون سی نہیں، یہ تو وقت طے کرتا ہے۔ تحریروں کی اہمیت وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ کل جو چیز اہم نہیں تھی وہ آج اہم ہے اور اگر حالات بدل جائیں تو آج کی اہم چیز کل غیر اہم ہوجائے گی۔ لیکن میں اپنی تحریروں میں سب سے اہم تحریریں اور تخلیقات انھیں مانتا ہوں جو انسانیت، آفاقیت، مثبت اور اعلیٰ و ارفع سوچ، بلند وژن اور اخلاقی قدروں کو مرکز بناکر لکھی گئی ہیں۔ ایسی ساری تحریریں ایم ہوتی ہیں، پھر چاہے وہ کسی نے بھی لکھی ہوں۔ ورنہ تحریر سوائے جملے بازی اور شاعری لفاظی کے علاوہ کچھ نہیں رہ جاتی۔
ڈیجیٹل میڈیا نے ادب کو کس طرح متاثر کیا ہے، اور آپ کے نزدیک فیس بک اس تبدیلی میں کتنی اہمیت رکھتا ہے۔
حسنین عاقب: اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا کے تعارف نے ادب میں انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے۔ جو لوگ اپنی تخلیقات کی اشاعت کے لیے پلیٹ فارمز تلاش کرتے تھے ان کی دلی مراد بر آئی۔ نہ ایڈیٹر کی جانب سے تخلیق کی اشاعت سے انکار کا خدشہ رہا نہ کوئی تذبذب۔ لیکن اس سے ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ ادب کے نام پر الم غلم کے بھی ڈھیر لگنے شروع ہوگئے۔ جب ہر شخص بلاروک ٹوک اپنی چیز سوشل میڈیا اور فیس بک پر پیش کرنے کا مجاز ہوگیا اور غیر معیاری چیزوں کو ہزاروں لائکس ملنے لگ جائیں تو پھر کسی کو معیار کی فکر کیوں ہو کہ بغیر محنت اور بغیر معیار کے ہی اتنی شہرت مل رہی ہے تو فبھا۔
اس کے باوجود محدود مقدار میں ہی کیوں نہ ہو، اچھے ادیب اور شعرا جغرافیائی فاصلوں کو پار کرتے ہوئے یکجا ہوکر ادب کے فروغ میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ فیس بک پر گروپس کی شکل میں سب ایک دوسرے کی اصلاح بھی کررہے ہیں اور ایک دوسرے کو سراہ بھی رہے ہیں۔ یہ فیس بک اور سوشل میڈیا کا مثبت پہلو ہے۔
زیرِ تکمیل ادبی منصوبے؟ 
حسنین عاقب: کئی منصوبے اردو اور انگریزی ادب کے زیر تکمیل ہیں۔ پروفی ایم کا مینی فیسٹو کے علاوہ پروفی ایم کی عالمی اینتھالوجی اور میری اپنی پروفی ایم کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ معکوس ترجمہ نگاری کی کتاب پر بھی کام چل رہا ہے۔ مصور کارنجوی کی کلیات بھی تکمیل کے قریب ہے۔ بچوں کے ادب میں بچوں کی کہانیوں کی دوسری کتاب اور بچوں کی نظموں کی کتاب "فرشتوں کے لیے" بھی زیر ترتیب ہے.  "اقبال: تقابل، تنقید اور تعبیر" پریس میں جاچکی ہے۔ ان کے علاوہ بھی دیگر کئی کتابیں پروسیس میں ہیں. 
کیا آپ اپنی تحریروں میں اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے ہیں؟
اگر ہاں تو کن مراحل میں۔ خیال سازی، تحقیق، زبان کی اصلاح، یا تدوین؟
حسنین عاقب: پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم اے آئی کے زمانے کے لوگ نہیں ہیں۔ ہمیں تو واٹس ایپ کی تحریریں اور پی ڈی ایف دستاویز پڑھنے میں بھی دقت ہوتی ہے۔ میں نے کئی مضامین اور مقالے تخلیقِ ادب میں اے آئی کے استعمال کی مذمت میں تحریر کیے ہیں۔ ویسے بھی میرا ماننا یہ ہے کہ اے آئی محض معلومات حاصل کرنے کا وسیلہ ہے، اور اے آئی کی فراہم کردہ تمام تر معلومات بھی مصدقہ اور توثیق شدہ نہیں ہوتی۔ تحقیقی نوعیت کی تحریروں میں کسی حد تک اے آئی سے تکنیکی رہنمائی لی جاسکتی ہے لیکن تخلیقِ ادب میں تو اے آئی سوائے فریب اور سراب کے کچھ نہیں ہے۔ ادبی ترجمہ نگاری کے لیے بھی اے آئی مکمل طور پر قابل اعتبار نہیں ہے۔ البتہ بنیادی اور تکنیکی معلومات کے لیے محدود اور محتاط طریقے سے اے آئی کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ ادبی دیانتداری متاثر نہ ہو۔
آپ کے نزدیک آج کے ادیب کے لیے اے آئی کا استعمال کتنا ضروری ہے، اور کیا یہ ایک مددگار ٹول ہے یا ادب کے لیے خطرہ؟
حسنین عاقب: اے آئی تخلیقیت کے لیے سم قاتل ہے۔ نئے لکھنے والے اے آئی کو پرومپٹ دے کر جو لکھوارہے ہیں اس کے نتیجے میں "روبو لٹریچر" پیدا ہورہا ہے۔ صاف سمجھ میں آتا ہے کہ یہ انسانی نہیں مشینی عمل کا نتیجہ ہے۔
اے آئی کو اگر محض معلومات کے حصول اور تصدیق کے لیے انتہائی محدود پیمانے پر استعمال کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر بنیادی خیال اور پھر اس خیال کی صورت گری کے لیے بھی اے آئی سے رجوع کیا جائے تو تخلیق تخلیق کہاں رہ جائے گی؟ وہ تو محض ایک نقل و چسپاں جیسی کوئی چیز بن کر رہ جائے گی۔ اس لیے میری رائے میں اے آئی سے پرہیز ہی کیا جانا چاہیے اور اگر گریز ممکن نہ ہو تو پھر اسے صرف ایک معاون کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ورنہ ادب اور تخلیقیت کا اعتبار ختم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
[ہمارے] گروپ کے لیے چند الفاظ/تجاویز: 
حسنین عاقب : فی زمانہ سوشل میڈیا کی رسائی مین اسٹریم میڈیا سے زیادہ طاقتور ہوچکی ہے۔ ایسے میں ادب کی ترویج کے امکانات بھی زیادہ روشن ہوئے ہیں۔ آپ کے گروپ میں جس طرح ادبی تخلیقات کو بنیاد بناکر کہنہ مشق اور نئے، دونوں قبیل کے لکھنے والوں کو ساتھ لے کر چلا جاتا ہے، وہ گروپ کے منتظمین کی نیک نیتی اور اخلاص کی بہترین مثال ہے۔ آپ نے گروپ کے لیے تجویز کی خواہش کی ہے تو چند تجاویز ذہن میں آرہی ہیں:
اول: گروپ کے ذریعے ادیبوں اور شاعروں کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح کے مقابلے منعقد کروائے جائیں۔
دوم: مقابلوں میں شریک ہونے والی بہترین اور چنی ہوئی تخلیقات کو نہ صرف شائع کیا جائے بلکہ ان کے تراجم بھی کروائے جائیں۔
سوم : نومشق ادیبوں اور شعرا کے لیے ترغیبی ایوارڈز اور کہنہ مشق شعرا و ادبا کے لیے حسن کارکردگی ایوارڈز کی تفویض کا نظم کیا جائے تاکہ ادب کو منجملہ فروغ حاصل ہو اور زیادہ سے زیادہ قابل اور باصلاحیت افراد گروپ سے وابستہ ہوسکیں۔
تسنیم جعفری: بہت شکریہ حسنین عاقب صاحب کہ آپ نے ہمیں وقت دیا ۔
حسنین عاقب:جی، سلامت رہیں ، خوشحال رہیں ۔ خدا نگہبان
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں :کتاب: کاغذ سے اسکرین تک

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے