عبدالجلیل مستان مرحوم:  شخصیت، سیاسی اور سماجی خدمات

عبدالجلیل مستان مرحوم: شخصیت، سیاسی اور سماجی خدمات

رضوان ندوی
قاضی ٹولہ بھا گ ہر ( ہری پور) امور ، پورنیہ
موبائل: 7004999654

اَمَور اسمبلی حلقہ کے سابق ایم. ایل. اے و سابق وزیرِ کابینہ حکومتِ بہار جناب الحاج عبدالجلیل مستان نے 12 ستمبر 2026ء مطابق 29؍ ربیع الاول 1448ھ اتوار کی رات 8؍ بجے دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیو ٹ آف میڈیکل سائنس(AIIMS )کے آئی سی یو میں آخری سانس لی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون. ان کی وفات کی خبر سے پورے سیمانچل بالخصوص امور اسمبلی حلقے میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ ان کی وفات سے نہ صرف امور، بیسا، بلکہ پورا سیمانچل ایک ایسےعوامی رہنما سے محروم ہوگیا جس نےتقریباً چار دہائیوں تک عوام کے دلوں میں حکم رانی کی۔
جناب الحاج عبد الجلیل مستان نے پورنیہ ضلع کے بیسا بلاک میں واقع سرسی گاؤں کے ایک متوسط گھرانے میں1945ء میں آنکھیں کھولیں۔ ان کے والدِ گرامی جناب امین الدین مستاجر مرحوم ایک متوسط کسان تھے، ان کا شجرۂ نسب اس طرح ہے: عبد الجلیل مستان ابن امین الدین مستاجر ابن شیخ عنایت ابن دیدار بخش۔ واضح رہے کہ ان کے خاندان کا کوئی سیاسی یا زمین دارانہ پس منظر نہیں تھا۔
انھوں نے 1963ء میں ضلع اسکول پورنیہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1965ء میں پورنیہ کالج، پورنیہ سے انٹر میڈیٹ آف کامرس کا امتحان پاس کیا۔انھوں نےبی کام (B.Com.) میں داخلہ تو لیا، لیکن اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ گھر آکر زراعت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے، ساتھ ساتھ علاقے کے عوامی مسائل سے بھی دل چسپی لینے لگے، رفتہ رفتہ عوامی مسائل سے ان کی وابستگی بڑھتی گئی، چنانچہ 1985ء میں انھوں نے پہلی بار عملی سیاست میں قدم رکھا اور امور اسمبلی حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا، ان کا انتخابی نشان ’عورت کے سر پر ٹوکری‘ تھا۔ یہ انتخاب ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ اس وقت بہار میں کانگریس پارٹی بر سر اقتدار تھی، ان کے مقابلے میں کئی تجربہ کار اور معروف سیاسی شخصیات موجود تھیں، جن میں کانگریس پارٹی کے سیٹنگ ایم ایل اے جناب ایڈوکیٹ معیزالدین صاحب علیگ مرحوم، جنتا پارٹی کے امیدوار سابق ایم ایل اے آں جہانی چندر شیکھر جھا کے علاوہ جناب الحاج مظفر حسین صاحب مرحوم اور جناب طیب خاں صاحب مرحوم جیسے امیدوار میدان میں تھے. ایسے میں ایک متوسط کسان گھرانے کا شخص، جس کا کوئی سیاسی خاندانی پس منظر نہیں تھا، بڑے بڑے سیاسی ناموں کو پیچھے چھوڑ کر اسمبلی کے ایوان تک پہنچ گیا، یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ یہ صرف ایک انتخابی کامیابی نہیں تھی بلکہ عوام میں ان کی ہر دل عزیزی اور مقبولیت کی واضح دلیل تھی۔
اس کامیابی نے ان کی سیاسی گرفت مضبوط کردی، چنانچہ 1990ء میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کی لیکن۔ 1995ء میں سماج وادی پارٹی کے امید وار جناب الحاج مظفر حسین صاحب مرحوم نے محض 755 ووٹوں سے انھیں شکست دےدی تھی، لیکن حاجی صاحب مرحوم اپنی مدت پوری نہیں کر سکے، چنانچہ13؍ مارچ1996ء میں ان کی وفات ہوگئی۔ 1997ء میں ضمنی انتخاب ہوا جس میں حاجی مظفر حسین صاحب مرحوم کے صاحب زادے جناب صبا ظفر صاحب راشٹریہ جنتا دل کے ٹکٹ پر اس ضمنی انتخاب میں الکشن میں کھڑے ہوئے، واضح رہے کہ انھیں یہ ٹکٹ سیمانچل گاندھی جناب تسلیم الدین صاحب مرحوم نے دلوایا تھا اور اس ضمنی انتخاب میں انھیں کامیابی بھی حاصل ہوئی، لیکن عبد الجلیل مستان صاحب شکست کے باوجود سیاسی میدان سے کبھی غائب نہیں ہوئے۔ چنانچہ 2000ء میں انھوں نے دوبارہ اسمبلی انتخاب میں جیت حاصل کی۔ 2005ء کے اسمبلی انتخاب میں بھی وہ کامیاب ہوئے، لیکن 2010ء میں بی جے پی کے امیدوار صبا ظفر صاحب نے انھیں دوبارہ شکست دی، لیکن 2015ء میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر شاندار کامیابی حاصل کی. یوں عبدالجلیل مستان 1985ء، 1990ء، 2000ء، فروری 2005ء، اکتوبر 2005ء اور 2015ء میں چھ مرتبہ بہار اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کی یہ مسلسل کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا رشتہ محض سیاسی جماعت یا انتخابی نشان سے نہیں، بلکہ براہِ راست عوام سے تھا۔ 2015ء میں اسمبلی انتخاب میں کامیابی کے بعد انھیں ( مہا گٹھ بندھن) نتیش کمار کی حکومت میں کابینہ وزیر بنایا گیا۔ انھوں نے 20 نومبر 2015ء سے 16 جولائی 2017ء تک رجسٹریشن، ایکسائز اور پروہیبیشن کے وزیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیں۔ یہ ان کے سیاسی سفر کا بلند ترین مرحلہ تھا، لیکن اقتدار کی بلندیوں کے باوجود ان کے مزاج اور رویے میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ وہ وزیر بنے، مگر مستان ہی رہے۔ وہ اسمبلی میں پہنچے، مگر عوام سے دور نہیں ہوئے۔ انھوں نے اقتدار دیکھا، مگر اقتدار کو اپنی شخصیت پر حاوی نہیں ہونے دیا۔
فطری طور پر وہ ایک صلح پسند، خلیق، ملنسار، منکسر المزاج، شریف النفس، سادگی پسند اور اپنی تہذیب و ثقافت اور پرانی قدروں کے دل دادہ شخص تھے. ان کی سادگی ان کی شناخت بن چکی تھی۔ اپنے عہدے، مناصب اور اثر و رسوخ کا انھوں نے کبھی غلط فائدہ نہیں اٹھایا، اگر ان کی ذات سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچا ہے تو کوئی نقصان بھی نہیں ہوا ہے، ان کی یہی خوبیاں انھیں دوسرے بہت سے سیاست دانوں سے ممتاز کرتی تھیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ بھی ایک انسان تھے ان میں بھی خامیاں تھیں، ان سے غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہوں گی. لیکن بہ حیثیت مجموعی ان کی خوبیاں ان کی خامیوں پر حادی تھیں۔
ان کی شخصیت میں ابتدا ہی سے ایک خاص بے نیازی تھی۔ انھوں نے شادی بھی بہت بعد میں کی ان کے اعزہ و اقارب نے بہت اصرار کے بعد انھیں شادی کے لیے راضی کیا، بالآخر ان کی شادی سرسی گاؤں ہی کی ایک گریجویٹ لڑکی محترمہ ترنم جہاں بنت جناب ماسٹر حبیب الرحمان صاحب سے ہوئی، مستان صاحب کی کوئی اولاد نہیں ہے. ان کے پس ماندگان میں صرف ان کی بیوہ ہیں۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی عوامی کاموں کے لیے وقف کردی تھی۔ ان کی بے نیازی نے ان کی شخصیت کو ’’مستان‘‘ بنا دیا تھا۔ ان کے اندر اپنے مقصد کے حصول کے لیے زبر دست لگن تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے نام کے ساتھ ’’مستان‘‘ صرف ایک لقب نہیں رہا، بلکہ رفتہ رفتہ ان کی شخصیت کی پہچان بن گیا۔
جب وہ 1985ء پہلی مرتبہ ایم ایل اے منتخب ہوئے تو یہ وہ دور تھا جب نہ صرف ہمارے علاقے میں، بلکہ پورے سیمانچل کے دیہی علاقوں میں آمد و رفت کی سہولت آج کل جیسی نہیں تھی لوگ اکثر پیدل، بیل گاڑی، سائیکل پر چلا کرتے، سڑکیں سبھی کچی تھیں، پکی سڑکوں اور پل وغیرہ کا کوئی نام و نشاں نہیں تھا۔ چنانچہ عبد الجلیل مستان صاحب بھی زیادہ تر پیدل ہی چلا کرتے تھے۔ ان کی مقبولیت اور ہر دل عزیزی کا یہ عالم تھا کہ جہاں جاتے ان کے پیچھے ایک قافلہ بن جاتا، کسی بھی گاؤں میں جب ان کی آمد ہوتی تو لوگوں کو خبر ملتے ہی نوجوانوں، بچوں، بوڑھوں کی بھیڑ جمع ہوجاتی تھی۔ لوگ ان سے ملاقات کرتے وہ بھی لوگوں کے احوال دریافت کرتے، ضرورت مند لوگ اپنی ضرورتوں اور مسائل کو ان کے سامنے رکھتے، الغرض ہر جگہ آج کی اصطلاح میں ’جنتا دربار‘ لگاتے تھے ۔
جب مستان صاحب مرحوم پٹنہ سے گھر واپس آتے تو اکثر علاقے کا دورہ کرتے، لوگوں کی خبر خیریت لیتے۔ اس کے علاوہ ان کا معمول تھا وہ اکثر امور، بیسا دونوں بلاکوں کا دورہ کرتے تھے۔ خاص طور سے تھانہ، بلاک اور ہاسپیٹل جاتے۔ واضح رہے کہ تمام سرکاری محکمے کے افسران میں ان کا اس قدر خوف تھا کہ ان کی آمد کی خبر ملتے ہی پورے بلاک میں ہلچل مچ جاتی تھی۔ وہ کبھی کسی آفس کے اندر یا کسی آفیسر کے چیمبر میں جاکر آرام دہ کرسی میں نہیں یٹھتے تھے، بلکہ وہ ہمیشہ آفس کے احاطے میں زمین پر بیٹھتے، وہیں سارے آفیسر اپنی اپنی فائلیں لے کر بھا گے بھاگے آتے وہیں ’جنتا دربار‘ لگ جاتا تھا۔ سارے شعبوں کے افسرو ں کو بلاتے اور مختلف امور پر ان سے تبادلۂ خیال کرتے، حسبِ ضرورت انھیں ہدایات دیتے اور کمی کوتاہی پر ڈانٹ ڈپٹ سے بھی گریز نہیں کرتے۔
اس موقعے پر موجود عوام کے مسائل کو بہت توجہ سے سنتے اور متعلقہ افسر کو بلاکر موقعے پر ہی اپنے سامنے ان کو حل کرواتے۔انھیں رشوت خور اور بد عنوان افسروں سے بڑی نفرت تھی ان پر وہ کڑی نگاہ رکھتے تھے، ان کارعب کچھ ایسا تھا کہ بڑے سے بڑے افسر ان کے سامنے کانپتے تھے۔ یہ جناب عبد الجلیل مستان صاحب مرحوم کی اصول پسندی، ایمان داری اور سچائی کا رعب و دبدبہ تھا۔
وہ عوام کے لیے ہمیشہ وقف رہتے تھے، پٹنہ میں ان کا فلیٹ علاقے کے لوگوں کے لیے ایک گیسٹ ہاؤس کی مانند تھا۔ ضرورت مند خاص طور سے علاج کی غرض سے جانے والے لوگ مہینوں ان کی سرکاری رہائش گاہ میں رہ کر اپنے مریض کا علاج معالجہ کرواتے، امور، بیسا کے مدرسہ بورڈ کے ملحقہ جملہ مدارس کے اساتذۂ کرام ’ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ‘ جب اپنے کسی دفتری امور کے لیے جاتے تو مستان صاحب کے ہی فلیٹ میں قیام کرتے۔ اس کے علاوہ پٹنہ کالج ؍ یونی ورسٹی اور پٹنہ میں واقع دیگر کالجوں میں میں پڑھنے والے معاشی طور سے کمزور بہت سے طلبہ مستقل طور پر ان کے فلیٹ میں رہ کر اپنی تعلیم حاصل کرتے. ان کے یہاں کوئی روک ٹوک نہیں تھی ہر شخص کے لیے ان کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ وہ نہ صرف آنے والے لوگوں اور ضرورت مندوں کا پُر تپاک استقبال کرتے اور اپنے فلیٹ میں ٹھہر نے کی اجازت دیتے، بلکہ ان کا ہر ممکن تعاون بھی کرتے تھے اور ہمیشہ خبر خیریت بھی دریافت کرتے رہتے تھے۔
جہاں تک علاقے میں ترقیاتی کام کی بات ہے انھوں نے اپنی بساط بھر علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کیا۔ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، مدارس اور اسکولوں کی چہار دیواری اور دیگر بنیادی سہولتوں کے سلسلے میں ان کا کردار قابلِ ذکر ہے۔ واضح رہے کہ علاقے میں مسائل لا محدود ہیں اور وسائل محدود اس لیے یہاں کے سارے مسائل کو حل کرنا تنہا کسی بڑے سے بڑے لیڈر کی بس کی بات نہیں ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ غلط ہوگا کہ انھوں نے علاقے کے سارے مسائل کو حل کردیا ہے۔ ان سے جو کچھ بن پڑا انھوں نے کیا۔
ہمارے علاقے میں متعدد پہاڑی ندیاں ہیں جن کی وجہ سے ہر سال یہاں سیلاب آتا ہے، ساتھ ساتھ ندیوں میں کٹاؤ بھی ہوتا ہے، سیلاب اور ندی کٹاؤ کی وجہ سے ہر سال ہزاروں لوگ متاثر ہوتے ہیں. فصلیں تباہ ہوتی ہیں. سیکڑوں مکانات اور زمین کٹ کر دریا کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ابھی بھی علاقے میں متعدد پلوں، سڑکوں اور اسپتالوں کی تعمیر اور ندی کٹاؤ کی روک تھام کے لیے مستقل اور پختہ انتظامات کی شدید ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی و ریاستی حکومت اور جملہ نمائندوں کو اپنے سیاسی نظریات، اختلافات اور ذاتی مفادات کو بھلا کر متحد ہوکر اس علاقے کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ ہمارے سیاسی لیڈران اور علاقے کی فلاح و بہبود اور ہمہ جہت ترقی کے خواہاں افراد اس جانب توجہ دیں گے۔اپنے ذاتی مفادات، سیاسی نظریات اور آپسی اختلافات کو بھلا کر علاقے کی تعمیر و ترقی اور خوش حالی کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں گے۔
عبد الجلیل مستان صاحب مرحوم کا سب سے اہم کارنامہ اس علاقے سے جرائم کو ختم کرنا تھا. چنانچہ 1985ء میں جب وہ پہلی مرتبہ ایم ایل اے منتخب ہوئے تو انھوں نے سب سے پہلا قدم علاقے میں بڑھتے ہوئے جرائم کو ختم کرنے کے لیے اٹھایا. اس سلسلے میں انھوں نے محکمۂ پولیس کا سہارا نہیں لیا، بلکہ اپنی حکمتِ عملی اور سوجھ بوجھ سے کام لے کر یہ کارنامہ انجام دیا اور بڑی حد تک علاقے کو جرائم سے پاک کیا. چنانچہ اس علاقے میں امن و امان کے قیام کے سلسلے میں ان کے اقدامات کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔
انھیں کئی مرتبہ انتخاب میں شکت کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ کبھی دل براشتہ نہیں ہوئے، بلکہ وہ ہمیشہ عوام کی خدمت میں لگے رہے۔ سیاست میں کامیابی اور ناکامی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ کوئی بھی سیاست داں ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا، بلکہ انھیں شکست کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ عبد الجلیل مستان صاحب مرحوم بھی متعدد بار شکست سے دوچار ہوئے، لیکن ان کے عزم و حوصلے اور عوامی خدمت کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ مستان صاحب مرحوم کی طرزِ سیاست منفرد تھی۔ ان کے اندر چھل، کپٹ، غلط بیانی اور وعدہ خلافی جیسی باتیں نہیں تھیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ سیاسی مخالفین بھی ان کی سادگی اور ایمان داری کا اعتراف کرتے تھے۔
عبدالجلیل مستان مرحوم کا میرے خاندان سے ایک قدیم اور گہرا رشتہ تھا۔ چوں کہ ان کا نانیہال میری ہی پنچایت رنگریا لال ٹولی کے ’رنگریا‘ گاؤں میں تھا۔ ان کے نانا جناب نصیر الدین مرحوم تھے ۔محمد اسماعیل مرحوم ، محمد طیب مرحوم اور محمد یوسف مرحوم ان کے ماموں تھے۔ اسی نسبت سے وہ اس پنچایت کے تمام گاؤں کو اپنا نانیہال ہی تصور کرتے تھے۔ میرے گاؤں بھاگ طاہر( ہری پور) سے ان کا نانیہال صرف ۲؍ کیلو میٹر کے فاصلےپر واقع ہے۔ میرے دادا، معروف شاعر و ادیب قاضی جلال ہری پوری سے انھیں خاص عقیدت تھی۔وہ میرے دادا کو ’نانا‘ کہہ کر پکارتے تھے ۔1985ء میں جب وہ پہلی مرتبہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے تھے تو وہ ہمارے گاؤں آئے اور میرے دادا سے دعا کی درخواست کی دادا جان نے انھیں دل سے دعائیں دیں ،حسنِ اتفاق کہیے وہ اس انتخاب میں کامیاب بھی ہوگئے۔ اس کے بعد میرے دادا سے ان کی عقیدت مزید بڑھ گئی ۔اس لیے وہ جب بھی الکشن میں کھڑے ہوتے، میرے دادا سے دعائیں لینے ضرور آتے۔ میرے داداجان جب تک با حیات رہے، وہ جب بھی اس علاقے میں دورے پر آتے، کچھ دیر کے لیے ہمارے گھر ضرور تشریف لاتے۔دادا کے انتقال کے بعد بھی یہ تعلق ختم نہیں ہوا،بلکہ میرے والد گرامی جناب ماسٹر قاضی حامد حسن صاحب، میرے چچا جناب ماسٹر قاضی قمرالزماں صاحب اورمیرے خاندان کے دیگر افراد سے ان کا یہ تعلق بدستور قائم رہا۔ وہ مجھے بھی بے حد عزیز رکھتے تھے چنانچہ فروری 2014ء میں جب میں نے اپنے دادا قاضی جلال ہری پوری اور پردادا قاضی نجم ہری پوری کے شعری مجموعوں کی تقریبِ رسمِ اجرا کا اہتمام اپنے گھر پر کیا تو اس موقع پر میں نے شعرا و ادبا کے ساتھ متعدد سرکردہ سیاسی و سماجی شخصیات کو بھی مدعو کیا تھا۔ چنانچہ میں نے عبدالجلیل مستان صاحب کو بہ طور خاص دعوت دی تھی۔ انھوں نے میری دعوت قبول کرتے ہوئے تقریب میں شرکت کی تھی۔ ایک مصروف سیاسی شخصیت کا کسی ادبی تقریب میں شریک ہونا بڑی بات ہے۔ یہ دراصل میرے خانوادے سے ان کے دیرینہ تعلق کا نتیجہ تھا. 
اسی طرح ان کا تعلق میرے نانیہال (واضح رہے کہ میری نانیہال اور دادیہال ایک ہی گاؤں ہری پور ( بھا گ طاہر) میں ہے۔) سے بہت گہرا تھا۔ چوں کہ میرے نانا جناب مکھیا محمد فاروق عالم صاحب مرحوم 22 سالوں تک رنگریا لالٹولی پنچایت کے مکھیا رہے۔ اس لیے میرے نانا سے مستان صاحب کا سیاسی، سماجی رشتہ بہت گہرا تھا. سماج میں کسی طرح کا کوئی معاملہ پیش آتا انھیں اطلاع دی جاتی وہ خود تشریف لاتے اور میرے نانا مکھیا محمد فاروق عالم صاحب مرحوم اور گاؤں کے دیگر اہم اور ذمہ دار افراد کے ساتھ بیٹھ کر معاملے کو حل کرتے اور فریقین کے درمیان میل ملاپ کراکے جاتے۔
بہر کیف ہر شخص کو ایک دن مرنا ہے، موت سے کسی کو چھٹکارا نہیں، چنانچہ عبد الجلیل مستان صاحب بھی ایک طویل عرصے تک اس علاقے میں سیاسی، سماجی اور ملی خدمات انجام دے کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے اور ہزاروں لوگوں کے دلوں میں اپنے تابندہ نقوش چھوڑ گئے۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گی، ان کی نمازِ جنارہ میں عوام کی بھیڑ سے ان کی عظمت اور عوام کے دلوں میں ان کے تئیں عقیدت و محبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بلاشبہ ان کی وفات تمام باشندگانِ سیمانچل کے لیے عظیم خسارہ ہے۔ ان کی وفات سے سیمانچل کی سیاست میں ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جس کا پُر ہونانا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائے، انھیں اپنی رحمتِ کے سایے میں جگہ عطا فرمائے، ان کے حسنات کو قبول فرمائے اور ان کے پس ماندگان، متعلقین، احباب اور تمام سوگواروں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔!
***
رضوان ندوی کی گذشتہ نگارش :احسان قاسمی کی شاعری ’دشتِ جنوں طلب‘ کے حوالے سے

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے