(مجموعۂ مضامین و تاثرات)
(ادارتی نوٹ : ابوالخیر نشتر بیتیا کے قابل قدر شاعر تھے، ان کا انتقال 2026 کے فروری ماہ میں ہوا. صفدر امام قادری اور دوسرے قلم کاروں نے ان کی شخصیت و شاعری پر گراں قدر رائے پیش کی ہے. خاص طور سے ان کی رمضانی شاعری کی اہمیت ہمارے ثقافتی شعری اظہار کا قیمتی عنوان ہے. یہاں ان کے تعارف کے ساتھ کچھ مضامین و تاثرات یک جا پیش کیے جاتے ہیں.)
مختصر تعارف:
اصل نام: ابوالخیر
قلمی نام: ابوالخیر نشترؔ
پیدایش: ٢٣/ستمبر ١٩٤٧ء
وفات: ١٢/فروری ٢٠٢٦ء
والد: عبد الطیف (مرحوم)
والدہ: کلثوم خاتون (مرحومہ)
جاے ولادت: محلّہ گنج دوم، جنگی مسجد، بتیا، مغربی چمپارن(بہار)
پیشہ: درس و تدریس (معلّم)، درگاہ اصلاحی بتیا
تصنیفات: ’الفاظ کی خوش بوٗ‘ (١٩٨٦ء)
’لفظ لفظ آئینہ‘ (٢٠١٠ء)
ٍ ’بولتے الفاظ‘ (٢٠١٧ء)
’روشن تر الفاظ‘ (٢٠٢١ء)
ملّی اداروں اور تنظیموں سے وابستگی
اتحاد کمیٹی (بتیا)، سلائی مزدور سبھا، سجّاد پبلک لائبریری (بتیا)، ریاستی انجمن ترقی اردو(ضلع چمپارن)، سماج سدھار سنگھ (بتیا)، تعلیمی انجمن (بتیا)، ضلع اوقاف کمیٹی (چمپارن)، سٹیزن ویلفیر سوسائٹی (بتیا)، ادبی سنگم (بتیا)، سجاد پبلک اردو لائبریری (بتیا)، ادبستان (بتیا)، ادارہ ادب اسلامی (بتیا)، ساہتیہ گنج (بتیا)، ہندی ساہتیہ سمیلن (بتیا) وغیرہ
منتخب کلام:
کسی حریص کو اپنا امام مت کرنا
حدوں سے بڑھ کے کبھی احترام مت کرنا
عجیب شہر ہے ہر شخص ہے یہاں کا خدا
کسی سے ملنا تو جھک کر سلام مت کرنا
اگر چہ حوصلہ ہے زندگی کا
جھکاتے کیوں ہو، اپنا سر اٹھاؤ
اجالا فکر کے آنگن میں ہوگا
چراغوں میں لہو دل کا جلاؤ
یہ کیسی چیخ، فضاؤں میں گونجتی ہے ابھی
زمیں پہ ٹوٹ کے بکھری ہیں چوڑیاں کتنی
جبر کے ہاتھوں یہاں توڑے گئے
گنبد و محراب اور مینار سب
یہ آگ خون کی تجارت یہ جبر و خوف کا راج
یہی ہے طرز سیاست تو رہزنی کیا ہے؟
فسادِ شہر نے پردہ اٹھا دیا، نشترؔ
میں، رہزنوں سے کہاں رہبروں سے ڈرتا ہوں
خود سے خفا ہوئے تو خدا بھی خفا ہوا
منزل سے بے نیاز ہیں منزل کے آس پاس
ہر طرف بڑھنے لگے بے چہر گی کے قافلے
دوستوں کی بھیڑ میں رہ کر یہ اندازہ لگا
کتنا غم انگیز ہے یہ بے بسی کا سانحہ
چہرے چہرے سے اڑا کر شاد مانی لے گیا
شہر تنہائی معطر ہے تیری یادوں سے
پھول احساس کے گلشن میں کھلا ہے کوئی
وفا کی راہ سے گزرا تو دل کے پتھر سے
ذرا سی ٹھیس لگی شیشۂ انا ٹوٹا
گرا کے برق جلایا ہے آشیاں دل کا
ترے لبوں پہ تبسم کچھ ایسے لہرائے
گذرے لمحات کا زخم تازہ ہوا
میری آنکھوں میں وہ مسکراتے رہے
***
ابوالخیر نشتر کی دانش ورانہ لَے
صفدرامام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
آج سے نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزرا، ابوالخیر نشتر کی صورت صاف صاف ذہن میں جھلملاتی نظرآتی ہے۔ کبھی منظر سلطان اور ایم ایم وفا، کبھی ناظم بھارتی کے آس پاس، کبھی میرے چچازاد بھائی شمس الہدی کے ہم راہ شعری نشستوں میں اور ادبی ملاقاتوں میں وہ نظر آجایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں ہمارا گھر شعری نشستوں اور ادبی ملاقاتوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ ہماری عمر کھیلنے کودنے اور مڈل اسکول میں پڑھنے کی تھی لیکن جیسے ہی کوئی ادیب یا شاعر ہمارے گھر تشریف فرما ہوتا، ہم خاطر داریوں کے مرحلے میں محفل کے اردگرد ہی ہوتے تھے۔ آخر یہ ادیب و شاعر کون سی باتیں کرتے ہیں اور کن موضوعات پر اتنی گہما گہمی اور ہمہ ہمی رہتی ہے۔ یہ طفلانہ پڑتال اس وقت کا ہمارا دل چسپ مشغلہ ہوتا تھا۔ مجھے ٹھیک طرح سے یاد ہے کہ اس وقت ابوالخیر نشتر ابھی شعر نہیں کہتے تھے۔ گفتگو میں ان کی شرکت تھی لیکن سماجی سیاسی موضوعات پر ان کی آواز زیاد ہ پختہ تھی، ادبی معاملات میں ان کے مقابلے منظر سلطان زیادہ پُرجوش ہوا کرتے تھے۔ ایم۔ ایم۔ وفا کے یہاں تو یوں بھی میانہ روی رہتی تھی۔
اسی دوران اچانک کسی شعری محفل میں ابو الخیر نشتر صاحب نے اپنی شعری تخلیق سنائی۔ ہم متحیر تھے کہ یہ اچانک شاعر کی حیثیت سے کیسے میدان میں اتر آئے۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ہمارا یعنی میرا اور بھائی ظفر امام کا متّفقہ تجزیہ تھا کہ شاعروں کے ساتھ اٹھتے، بیٹھتے ابو الخیر نشتر بھی شاعر ہوگئے۔ اُن کے دوسرے ہم عمر ساتھی ان سے پہلے شعر کہنے لگے تھے۔ 1975میں ہی ”بزم ارمان“ کا جشن سیمیں منایا گیا، اس میں نظم نگاری کا مقابلہ ابوالخیر نشتر نے جیتا تھا۔ اسی میں ہم لوگوں کی مضمون نگاری کا آغاز بھی انعام سے ہو اتھا۔
فوراً ہی ابوالخیر نشتر کی شاعری مقامی سطح پر دوڑنے لگی۔ ادبی محفلوں میں ناظم بھارتی کے شاگرد کے طور پر منظر سلطان، ایم. ایم وفا، احتشام افسر کے ساتھ ساتھ ابوالخیر نشتر بھی ابھرنے لگے۔ظریفانہ شعرا میں کھونچ اور کریک سرگرم تھے۔ ابوالخیر نشتر روزنامہ ”سنگم“ کی صحافت سے بھی منسلک تھے جس کی وجہ سے ان کی ایک اضافی پہچان تھی۔ شعری نشستوں میں وہ کئی بار اپنی آزاد نظموں کے ساتھ بھی دیکھے گئے۔ نظم گوئی سے یہ تعلق انھیں رمضان کے لیے مختلف قافلوں کی فرمایش پر کلام لکھنے کی طرف بھی لے گیا۔ یہ عجب اتفاق تھا کہ محلہ گنج نمبر 2 کے قافلے کے لیے خو دناظم بھارتی کلام لکھ رہے تھے اور محلہ نونیار کے ’سالار کارواں‘ کے لیے منظر سلطان اور محلہ جمع دار ٹولہ کے لیے ابو الخیر نشتر کلام لکھ رہے تھے۔ ان تینوں قافلوں میں مقابلہ اتنا شدید تھا کہ عید کے دو دو ہفتہ بعد تک باضابطہ ایسے پروگرام منعقد ہوتے اور انعامات دینے کا سلسلہ قائم ہوتا۔ ان مقابلوں میں ابوالخیر نشتر کی ادبی مشق بڑھی اور کم ازکم ایک دہائی تک یہ سلسلہ زوروشور اور ہنگامے کے ساتھ جاری رہا۔ یہ اچھا ہوا کہ ابوالخیر نشتر نے اب سے چالیس برس پہلے ہی اپنے ماہ رمضان سے متعلق کلام کا ایک مجموعہ ”الفاظ کی خوشبو“ کے عنوان سے شائع کرادیا۔ ناظم بھارتی اور منظر سلطان کا ایسا کلام تقریباً تمام و کمال ضائع ہوگیا۔
اس طرح بتیا کے ادبی افق پر ابوالخیر نشتر دھیرے دھیرے اپنی پہچان بنا نا شروع کرتے ہیں۔ دیکھنے میں منحنی سی شخصیت لیکن آواز میں بلندی۔ پہلے کبھی کبھی ترنم سے بھی شعر پڑھتے تھے لیکن رفتہ رفتہ تحت کو ہی اپنے لیے آخری منزل تصور کیا۔ یہی سلسلہ آج تک جاری ہے۔ قومی سطح پر اپنے کلام کی اشاعت کا سلسلہ باضابطہ طور پر کبھی ابوالخیر نشتر نے قائم نہیں کیا لیکن کبھی کبھار ملک کے ممتاز جرائد میں ان کی غزلیں اور نظمیں دیکھنے کو مل ہی جاتی رہیں۔ شاید اسی سے ترغیب پیدا ہوئی جس سے غزلوں اور نظموں کے مجموعے ”لفظ لفظ آئینہ“، ”بولتے الفاظ“ اور ”روشن تر الفاظ“ کی اشاعت کی گنجائش پیدا ہوئی ہو جس کے نتیجے میں ابوالخیر نشترکی پچاس سالہ شعری سفر کا پہلا بھر پور انتخاب شائع ہو کر ہم سب کے سامنے موجود ہے۔
ابوالخیر نشتر کی عام معنوں میں تعلیمی استعداد محدود ہے حالاں کہ انھوں نے کئی طرح کے پیشے اختیار کرنے کے بعد معلمی کو کارگہہ بنایا۔ نظیر اکبرآبادی کی عرفِ عام میں علمی استعداد کچھ زیادہ نہیں تھی۔ میر امن دہلوی بھی واجبی تعلیمی لیاقت رکھتے تھے لیکن دونوں نے معلمی کا پیشہ اختیار کیا۔ سب نے تاریخ ساز کارنامے انجام دیے جن کے مقابل اس زمانے کے عرف عام میں بڑے عالم فاضل افراد بھی قابلِ اعتنا کام نہیں کرسکے۔ شعر و ادب کے نئے اصول اور قواعد گڑھنے والے ثابت ہوئے۔ جب کہ کیسے کیسے علم والے وقت کی گرد بن کر تاریخ میں دفن ہوگئے۔ خدا سے میری دعا ہے کہ ابوالخیر نشتر ہماری شاعری کے لیے کوئی نیا اسلوب یا طَور قائم کرنے میں کامیاب ہوں۔
ابوالخیر نشتر کسی بڑے ادبی مرکز سے وابستہ نہیں رہنے کی وجہ سے اد ب کے سکّہ بند دائروں میں قید ہونے سے بچ گئے۔ انھوں نے جب شعرگوئی کے کوچے میں قدم رکھا، اس وقت جدیدیت کا اچھا خاصا زور قائم تھا۔ بتیا (مغربی چمپارن) کی سطح پر ہی منظر سلطان، ایم. ایم. وفا کے یہاں جدیدیت کی ایک لہر واضح انداز میں ٹکرا رہی تھی جس کی وجہ سے ان کی شاعری دوسروں سے انفرادی رنگ کی حامل ہوتی چلی گئی۔ ابو الخیر نشتر اس معاملے میں میانہ روی کے قائل معلوم ہوتے ہیں۔ اس لیے جدیدیت کے فیشن زدہ اسلوب سے ان کی غزلوں میں ایک محتاط اجتناب محسوس ہوتا ہے۔ ہم عصر اردو شاعری میں ہمارے کامیاب شعرا کا سب سے بڑا طبقہ انھی افراد پر مشتمل ہے جنھوں نے جدیدیت زدہ اسلوب کو استعمال میں لانے سے پہلے ردّ و قدح سے کام لیا۔ ابوالخیر نشتر اسی انداز و اسلوب کی نمایندگی کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کی شاعری چونکانے والی تراکیب، اجنبی استعارے اور دور از کار تشبیہات یا ناقابل فہم علامات سے تقریباً پاک ہے۔ حالاں کہ اس کی وجہ سے ابوالخیر نشتر کی شاعری میں براہ راستگی اور یک رخے پن کے عتابات بھی شامل ہوگئے ہیں۔کہیں کہیں یہ راست اظہار اپنی شفافگی کی وجہ سے دلو ں میں گھر کرلیتا ہے لیکن اکثر و بیشتر اشعار کی معنوی ترقی میں بہت بڑی رُکاوٹ بن جاتا ہے۔
ابو الخیر نشتر ایک طویل مدت تک کوچۂ صحافت کی سیّاحی کرتے رہے ہیں۔ اس لیے ان کی شاعری میں صحافت کے اثرات کا ملنا مشکل نہیں ہے۔ یوں بھی جس طر ح شاعر ی میں زندگی کی بھرپور ترجمانی کے مرحلے میں باربار داخلی زندگی کے ساتھ ساتھ بیرونی زندگی کے تقاضوں کو سمجھنا شاعر کے لیے لاز م ہوجاتا ہے، اسی طرح بیرونی مظاہر کو پیش کرتے ہوئے شاعر جانے انجانے میں کتنے باطنی احوال بھی داخلِ گزٹ کردیتا ہے۔ یہ بھی عجیب ہے کہ زندگی یا کائنات کو باہر سے سمجھنا یا بھیتر سے ٹٹولنا خط مستقیم پر چلنے جیسا نہیں ہے۔ ورنہ ہماری شاعری کی تاریخ میں سب سے پیچیدہ کردار اور سب سے زیادہ داخلیت پسند شاعر محمد تقی میر کے یہاں ظاہری دنیا کے بدلنے، بگڑنے اور تباہ و برباد ہونے پر ماتم کیو ں ہوتا؟اس لیے ابو الخیر نشتر کی شاعری میں باہر کی زندگی رنگ بکھیرتی ہے تو اس کا یہ قطعی مقصد نہیں کہ ان کے بیان میں زندگی کی گہری اور جاں سوز پڑتال نہیں ہے۔ وہ بار بار اپنے فیصلے اور مشاہدات ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ ان کے بیان میں کوئی جھجک یا غیر فیصلہ کن رویہ نہیں ہوتا بلکہ وہ صاف صاف اپنی بات کہنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ یہ واضح اشارے طبیعت کے اکہرے پن کی وجہ سے فلسفہ تو نہیں بنتے لیکن تبلیغ کی منزلوں تک ضرور پہنچ جاتے ہیں۔ کاش علم اور تجریے کے فروغ کے ساتھ ابوالخیر نشتر کی شاعری میں کوئی بڑا فلسفیانہ انداز یا رویہ پیدا ہوجاتا۔ چند اشعار ملاحظ ہوں:
جھوٹی شہرت، انانیت، اغراض
شہرِ مقتل کی ساری جاگیریں
تمام عمر تجسس پہ انکشاف ہوا
خدا کے حکم پہ چلنا بہت ضروری ہے
سازشیں جب بھی خیالوں میں جگہ پاتی ہیں
آدمی ٹوٹ کے ملتا ہے، دعا دیتا ہے
نظر خو داحتسابی عمر بھر رکھتے ہیں جو نشتر
حصار ذات کے باہر کبھی ٹوٹا نہیں کرتے
سچ کو سچ کہنے کی یہ سوغات ہے
پتھروں کی زد پہ میری ذات ہے
نفرت کی فضاؤں میں اے کاش کہ ہم وطنو!
اخلاص کے پھولوں سے گلشن کو سجادیتے
ان کے ہاں اپنے عہد کے احوال کے تجربے میں کہیں کہیں دانش روانہ چمک بھی دکھائی دیتی ہے۔ یہ اکثر ایسے مقامات ہیں جہاں نشتر طنزیہ اسلوب وضع کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک خوداحتسابی، اصلاح، تبلیغ اورنہ جانے کن کن پہلوؤں سے اس طنزیہ رویےّ کو اپنی شاعری میں جگہ دی ہے۔ متعدد اشعار میں ان کے ہاں قو لِ محال کی کیفیت ابھرتی ہے۔ دنیا کی بہترین شاعری کا ایک بڑا حصہ طنزیہ تسلیم کیا گیا ہے۔ ابوالخیر نشتر نے اپنے وقت اور زندگی کے تجزیے میں اسی موثر طنزیہ اسلوب کوآزمانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس سے ان کی شاعری کا مرتبہ بلند ہوتا ہے۔ چند ایسے اشعار دیکھیے:
کج نگاہی کو اپنی بھول سمجھ
آدمّیت کے کچھ اصول سمجھ
شہرتوں کی منڈیوں میں بیچ کر اپنا وقار
اہلِ فکر وفن کی عزّت بھی خساروں میں نہ تھی
پہرے تمام شہر کے نکّڑ پہ تھے مگر
قاتل ہر ایک موڑ پہ ہنستا ہوا ملا
یہاں سچ بولنا بھی جرم ٹھہرا
عجب رسم ورہِ آوارگی ہے
فسادِشہر نے پردہ اٹھادیا نشتر
میں رہزنوں سے کہاں رہبروں سے ڈرتاہوں
یہ نیا خواب نئی تعبیریں
وقت کے پانو میں ہیں زنجیریں
جسے تم فخر سے پڑھتے ہو یارو
اسی اخبار میں جھوٹی خبر ہے
سچائی کے پانو میں نشتر
دہشت کی زنجیر پڑی ہے
قدم انسان کا روکا گیا تو
درندے ہی ملیں گے بستیوں میں
جناب ظاہر وباطن میں یہ تضاد ہے کیوں
فقیہ شہر سے نشتر نے یہ سوال کیا
غریبوں کی بستی میں جو کچھ بچا
سیلاب آکر بہالے گیا
یہ دانش ورانہ اٹھان نشتر کی شاعری میں صرف روح عصر کی وجہ سے نہیں درآئی ہے بلکہ انھو ں نے طنزیہ اسلوب سے اپنی عصری فکر مندی ظاہر کی ہے۔ اس معاملے میں ہر شاعر ادبی اعتبار سے خطروں سے کھیلتا نظر آتا ہے کیوں کہ طنزیہ شعر کو اکہرا اور حقیقت کا محض ایک عکس بناکر رکھ چھوڑ ا جائے گا جب کہ شاعری کا کام اس سے بہت الگ اور ارفع ہے۔ ابوالخیر نشتر کی شاعری میں یہ طنزیہ کیفیت باربار دانش ورانہ عزم کے ساتھ شعر کو بلندی تک پہنچانے میں معاون ہے۔ اسی لیے ان کے مجموعے میں شاید ہی کوئی غز ل ہو جہاں طنز کی مناسب کارفرمائی نہ ملتی ہو۔
اپنے عہد اور اس کے مسائل ومباحث کے تجزیے میں ابو الخیر نشتر کے ہاں ایک گہرا اور پُرسوز لہجہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ اکہرے اور عمومی حقیقت پسندانہ اشعار سے آگے بڑھ کر نشتر اپنے اشعار میں اس مفکرانہ سنجیدگی تک پہنچنے میں کئی بار کامیاب ہوگئے ہیں جہاں سے بڑی شاعری کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ اظہار کی یہ تکلیف دہ اور کرب زا کیفیت دنیا کی عظیم شاعری کی خاص بنیاد ہے جہاں بہ قول شاعر ’غم ہی سونا ہے؛ غم ہی چاندی ہے‘۔ جہاں ’لذت سے نہیں خالی جانو ں کا کھپاجانا‘ اور یہ بات کہ ’اُن صحبتوں میں آخر جانیں ہی جاتیا ں ہیں‘۔ ابوالخیر نشتر شاعری کی اس کیفیت اور مقام کے کس درجہ حق دار ہیں، اس سلسلے سے فیصلہ کرنے سے قبل ان کے چند اشعار ملا حظہ کیجیے:
خدایا خیر دھرتی تپ رہی ہے
لگے گی آگ اب کے ندّیوں میں
شہر کی انگنائیاں دہشت زدہ
ہر گلی میں ناچتی ہے دھوپ چھانو
جانے کیوں پُرکیف موسم کے پرندے اُڑگئے
ڈالی ڈالی بے زباں ایسی بہاروں میں نہ تھی
گھر کی دہلیز پہ وہ رات گئے پچھلے پہر
جانے کس حال میں نشتر کو صدادیتا ہے
جہاں دریا تھا، اب صحرا ہے نشتر
مری آنکھوں میں ایسی بے بسی ہے
پرندے اب نہیں آئیں گے شاید
شجر کے شاخچوں پر خامشی ہے
موج درموج تباہی کے سلگتے سائے
اب کے برسات سمندر کی خبر لے آئی
ہراساں، مضمحل، دہشت زدہ بھی
ہمارے شہر کی ہر رہ گزر ہے
خوشا نصیب کہ نشتر تری جوانی بھی
تمام عمر کڑی دھوپ میں گزار گئی
نہ جانے کون سے موسم کا سانحہ گزرا
شجر کا شاخ سے رشتہ بھی واہما گزرا
ٹوٹ کر بکھرنا ہی پھول کا مقدر ہے
شاخ گل پہ کانٹوں کو ہم نے دیدہ نم دیکھا
تجسس میں ہماری عمر گزری
مہاجر کا ٹھکانہ اب کہاں ہے
ابوالخیر نشتر کی شاعری کا آئندہ رنگ انھی اشعار سے قائم ہوگا۔ وہ ریاضت کا اچھا خاصا فاصلہ طے کرچکے ہیں۔ ننگی آنکھوں سے زندگی کو جی لگا کر دیکھنے کا سودا بھی اب نصف النہار پر ہے۔ اتنی مشق کے بعد بھی انھیں یقینا یہ معلوم ہوچکا ہے کہ شاعری لفظوں کے کھیل تماشے کا نام نہیں ہے اور نہ ہی چند مخصوص عاشقانہ و ظریفانہ خیالات کی پیش کش ہے۔ ایک معلّم اور مدرس کی حیثیت سے وہ حیات و کائنات کے کچھ گہرے سوالوں کے جواب تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے سوالوں کے ابتدائی جواب ان کی کتابوں میں آگئے ہیں۔ اگر آئندہ شعروادب کے اس سنجیدہ اوردانش ورانہ فعل کو انھوں نے اپنے ایمان کا حصہ بنایا تو مجھے یقین ہے کہ وہ کامیاب شعرا کی صف میں امتیازی پہچا ن کے ساتھ جگہ پانے کا حق دارہوں گے۔
***
ابو الخیر نشتر ایک مختصر تعارف
ایس۔اے۔شکیل
قلعہ۔بیتیا
9006681897.
ایک ادیب شاعر صحافی اور اس سے قبل سماجی کارکن کی حیثیت سے شہرت کے اہم مقام تک پہنچ کر آج مورخہ 12/ فروری صبح کے قریب پانچ بجے مقامی میڈیکل کالج میں اپنی زندگی کا طویل سفر ختم کر اس دار فانی سے کوچ کر گئے، نشتر صاحب 23/ ستمبر 1947ء کو محلہ گنج دو میں پیدا ہوئے. اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ اسلامیہ بتیا میں اور پھر سگولی ہائی اسکول تک پہنچ کر تعلیم کا سلسلہ والد کی موت کے بعد ختم ہو گیا۔ گھر بار کا بوجھ کاندھوں پر آ پڑا، اسی کے ساتھ سماجی مشاغل سے جڑ کر سماجی تنظیموں اور عوامی خدمت میں سرفہرست آنے لگے۔
1967 میں اتحاد کمیٹی کا وجود عمل میں آیا جن میں رستم زماں، نصیر الدین حیدر اور نشتر صاحب سر فہرست رہے، یہیں سے سماج میں اپنی پہچان ثبت کرائے۔ پیشہ سے ادریسی درزی تھے۔ اس وقت ڈاکٹر ایچ این مترا کی رہنمائی میں سلائی مزدور سبھا میں پیش پیش رہے، رابطہ ملی بیتیا، سجاد پبلک لائبریری، ریاستی انجمن ترقی اردو ضلع چمپارن اشرف قادری کی رہنمائی میں اور جمیل احمد خان کے سماج سدھار سنگھ بیتیا، بانی اردو اسکول محمد مجید صاحب کی رہنمائی میں تعلیمی انجمن بیتیا، اردو گرلس ہائی سکول بیتیا، ضلع اوقاف کمیٹی چمپارن، سیٹیزن ویلفیئر سوسائٹی بیتیا اور ادبی سنگم بیتیبا، عظیم اقبال کے ادبستان، ایم عالم کی رہنمائی میں ادارہ ادب اسلامی، صفدر امام قادری کی رہنمائی میں دستک، ہندی ساہتیہ سمیلن سے کافی اخیر تک منسلک رہے۔
ان کی شاعری کا آغاز 1973 کے فورا بعد رمضانی کلام سے ہوا، اس پر ایک پہلا کتابی مجموعہ سامنے آیا اشرف قادری، ناظم بھارتی، احتشام افسر سے شعر و ادب میں کافی استفادہ حاصل کیے، صفدر امام قادری سے بھی اخیر تک منسلک رہ کر مستفیض ہوتے رہے۔ مولانا حسن معاویہ ندوی، عزیز ربانی گویا شہر کے سبھی دانشوران سے باہم منسلک رہ کر ادب و صحافت کے ذریعے اپنی خدمات مضامین کی شکل میں پیش کرتے رہے۔ قریب 1975 کے زمانے سے باضابطہ طور پر سنگم پٹنہ کے رپورٹر ہو گئے اور قوم اور ملک کی خدمت کرتے رہے۔ 1986 میں رمضانی کلام پر مشتمل الفاظ کی خوشبو، 2010 لفظ لفظ آئینہ، 2017 بولتے الفاظ شائع ہوا اور صاحب کتاب کی حیثیت سے اب تک شہرت پاتے رہے۔ بڑھتی عمر اور معاشی بوجھ نے رفتہ رفتہ جسم کو اپنے شکنجے میں اس طرح جکڑ لیا کہ گذشتہ مہینوں سے بستر پکڑ لیا ہے لیکن اسی بستر سے اپنوں کی خیریت بذریعے موبائل لیتے رہے. پرسوں اور اس سے ایک دن قبل گئے رات تک کئی کال کر مجھ سے صفدر امام کی خیریت دریافت کرتے رہے۔ میں نے گھر پر جا کر ملاقات کیا اور دعا کرتے رہنے کی گزارش کر انھیں بس تسلی دی۔ کل شام بتییا میڈیکل کالج میں بھرتی کیا ہوئے کہ آج صبح ان کے انتقال کی خبر سامنے آگئی۔ اللہ انھیں جنت عطا کرے بس اس کے سوا اور کیا۔۔۔۔۔انا للہ وانا الیہ راجعون
***
ابوالخیر نشتر: ایک شاعر
ڈاکٹر نسیم احمد نسیم
ابو الخیر نشتر ابن عبدالطیف مرحوم 23/ ستمبر 1947ء کو چمپارن کی تاریخی سر زمین بتیا (بہار) میں پیدا ہوئے۔ اُن کی شاعری کا آغاز 1975ء سے ہوا۔ اُن کی منظومات و غزلیات ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ ساتھ ہی اُن کی صحافتی خدمات بھی جاری رہیں۔ اُنھوں نے ایک طویل عرصے تک اپنی اچھی، سچی اور بے باک صحافتی تحریروں کے ذریعے پورے ملک میں اپنی شناخت مستحکم کی۔
آج سے تین چار دہائی قبل پورے بہار میں ماہِ صیام کے دَوران قافلۂ سحری کا رواج تھا۔ بڑی تعداد میں شعرا طبع آزمائی کر رہے تھے اور عوام الناس میں اُن کے قافلوں کی دھن تھی۔ ممکن تھا کہ بہت جلد رمضانی کلام کو ایک نئی صنف کا درجہ مل جاتا لیکن یہ سلسلہ مزید برقرار نہ رہ سکا اور دیکھتے دیکھتے یہ رواج تقریباً ختم ہو گیا مگر گذشتہ دہائیوں میں جو کچھ کہا گیا، اُس کی اہمیت و حرمت آج بھی باقی ہے۔
’روشن تر الفاظ‘ ابوالخیر نشتر کے ایسے ہی رمضانی کلام پر مشتمل مجموعہ ہے۔ اِس سے پہلے بہتیرے شعرا نے جستہ جستہ رمضانی کلام تو کہے لیکن کسی کا مجموعہ منصہ شہود پر نہیں آیا۔ اِس لیے اِس موضوع پر نشتر صاحب کا یہ پہلا باضابطہ مجموعہ تسلیم کیا جائے گا۔ اِس مجموعے کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اِس کے بیش تر کلام رواں اور مترنم بحروں میں تخلیق کیے گئے ہیں۔ شاعر کی زبان بہت ہی شستہ، شگفتہ اور سہل ہے۔ اس نے اس امر کو خصوصی طور پر ملحوظِ خاطر رکھا ہے کہ اس کے اشعار کی ترسیل و تفہیم یکساں طور پر عوام و خواص میں بہ آسانی ہو جائے۔
ابوالخیر نشتر اردو کی نظمیہ اور غزلیہ شاعری پر یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ اِس سے قبل اُن کے تین مجموعے ’الفاظ کی خوش بوٗ‘ (1986ء)، ’لفظ لفظ آئینہ‘ (2010ء) اور‘بولتے الفاظ‘ (2017ء) شائع ہو کر منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ واضح ہو کہ ’روشن تر الفاظ‘ اور ’الفاظ کی خوش بوٗ‘ کا ہی ترمیم شدہ و اضافہ شدہ ایڈیشن ہے۔
مجھے بے حد خوشی ہے کہ ’شاخت‘ اور ’ناظم بھارتی: ایک کارواں‘ کے بعد ادبی سنگم، بتیا کی یہ تیسری بڑی پیش کش ہے۔ جو کہ آج زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر قارئین کے پیشِ نظر ہے. اِس کے لیے اس کتاب کے محرک اور ادبی سنگم کے سرپرست ڈاکٹر محمد جاوید قمر کا جس قدر شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔ مجھے امید ہے یہ کتاب ادب کے جان کاروں اور فن کاروں کے درمیان خاطر خواہ پذیرائی حاصل کرے گی۔ ان شاء اللہ
***
ابوالخیر نشتر: بالیدہ احساس کا شاعر
ظفر امام ظفرؔ
اردو شاعری نے کئی بدلاؤ دیکھے ہیں۔ وقت اور حالات کے تحت ساری دنیا بدلتی رہی ہے۔ زندگی کی قدریں بدلتی رہی ہیں تو ادب کیوں نہیں۔ ادب تو زندگی کا ترجمان ہے، چاہے وہ کسی زبان کا ہو۔ اور زندہ زبانیں تو روز روز تبدیلیوں اور آگاہیوں سے روٗ بہ روٗ ہوتی رہتی ہیں۔ کلاسکی شاعری کا ایک بہت اہم اور لمبا دور گزرا۔ اردو شاعری جب سے معرضِ وجود میں آئی، عوام کی پسندیدگی کی ضمانت دار ہوئی۔ اس نے دلوں کو خوش کرنے کا فن سیکھا اور یہ زبان خود ایک بڑی اور زندہ تہذیب ہوتی گئی۔ اٹھارھویں اور انیسویں صدی کی نوعیت الگ ہے۔ زندگی کی رفتار الگ ہے۔ لوگ اسی رفتار میں جیتے رہے اور اردو ادب و شاعری بھی دل چسپی کا سامان بنی رہی لیکن بیسوی صدی میں جب دنیا نے کروٹ بدلی لوگوں کا مزاج اور جینے کے ڈھنگ میں تبدیلیاں ہوئیں تو اردو زبان و ادب کے بھی طور بدلنے لگے۔ خسرو، میر، حالی، سودا، شیفتہ، ناسخ، شاد، داغ، غالب، ذوق وغیرہ کی بڑی شاعری کے خزانے ہمارے پاس موجود تھے لیکن اب نیاپن اور تبدیلی لازمی تھی۔ شروعاتی دو تین دہائیوں کے بعد ہی ترقی پسندی کا واضح بدلاؤ سامنے آتا ہے۔
1960ء کے بعد جدیدیت کا صاف صاف رجحان اور زندگی کی طرف لوٹتی ہوئی، بیانیہ کی طرف لوٹتی ہوئی، گنجلک خیالات و بے جا تماشا بینی سے تنگ ہوتی ہوئی شاعری و ادب کا اشارہ ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ چیزیں اور ذہنیت بدلتی ہیں۔ شاعری کے موضوعات، ڈکشن، طرزِ فکر و طرزِا دا کے نہ جانے کتنے Shades بنتے اور بگڑتے ہیں۔ بیسویں صدی کی شروعاتی دہائیوں میں عالمی جنگ، اقتصادی بیداری، سیاسی و سماجی ترقی کی خواہشیں، خودمختاری، خوش حالی اور ترقی کے رجحانات نے پوری دنیا بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کو اپنے قبضے میں کر لیا۔ ہندستان میں اس کی رفتار 1935ء کے بعد آزادیِ ہندستان کے بعد اور 1960ء کے بعد تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئی۔ ان حالات میں احساسات کا مجروح ہونا، جذبوں کا کچلنا، انتشار، بے راہ روی اور نہ جانے کتنے سماجی و سیاسی مسائل سے رو بہ رو ہونا پڑا۔ انھیں حالات نے اردو شاعری کے موضوعات، ڈکشن، اسٹائل، فکر اور احساسات و جذبات میں زلزلے کا سا اثر پیدا کر دیا۔ ایسے میں ابو الخیر نشتر کی شاعری میں بے چینی، کرب، انتشار، بدامنی مجروح رشتے داری، احساس دروں، اخلاقی گراوٹ، انسانیت سوزیاں، مادہ پرستی، دہشت، سماجی گراوٹ، سیاسی انتشار، علمی بے راہ روی، اور روزی روٹی جیسے لا تعداد مسائل کے موضوعات در آئے، جو وقت کی ضرورت اور کامیاب ادب پارے کی مثال کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ابو الخیر نشتر چمپارن کے ان اہم تخلیق کاروں میں ہیں جنھوں نے 1960ء یا 1970ء کے بعد ادبی منظر نامے پر اپنی جگہ بنائی اور اب بھی ادب کی خدمت گزاری میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ ان کا قلم غزل و نظم دونوں پر یکساں چل رہا ہے۔
”بولتے الفاظ“ ان کی تیسری کتاب ہے جس میں خاص طور سے نظمیں ہیں۔ لیکن ان کی 53 نظموں کے علاوہ 32 غزلیں بھی دامن وا کھینچتی ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے اس انتخاب میں 61/ قطعات کا بھی انتخاب کیا ہے۔ ان کی نظموں کی طرف آتے ہوئے ایک بہتر فضا، کھلاپن اور نئے پن کے جھونکوں کا احساس ہوتا ہے۔ ان کے خیالات خالص لگتے ہیں۔ ان کی اونچائی شاعری سمجھنے والوں کو خوش کر دینے کا مادہ رکھتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نظموں میں ابو الخیر نشتر آفتاب سے کسبِ نور کر کے ادب کو روشن کرنے کا جتن کر رہے ہیں۔
شاعر نے پابند، آزاد اور معّرا نظمیں کہی ہیں۔ آزاد اور معّرا نظموں میں ان کی فکر اور جذبے کی زیادہ نشو و نما ہوئی ہے جہاں ردیف و قافیہ کی پابندی سے آزاد ہو کر خالص فکری جوت جلائی گئی ہے اور دل و دماغ کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن ابوالخیر نشتر کی انفرادیت ان کی آزاد اور معّرا نظمیں ہیں جن میں خوش منظری کا خوف، خواب، شہر ارتقا کے نام، گمرہی کا عذاب، ٹوٹتے لمحے، نیا موسم، افکار پریشان، ہولی، وہی فنکار، شاخِ بریدہ، تسکین اَنا، عید وغیرہ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ جہاں بڑی خوب صورتی سے خال خال ردیف اور قافیوں کی خوب صورت پابندیاں اور دل فریب آزادیاں ہیں۔ غیر پابند نظموں میں اتنی روانگی، نغمگی اور خوب صورتی بجا طور پر ابوالخیر نشتر کی نظمیہ شاعری کی کامیابی کا اعلان ہے۔ ان کی پابند نظموں میں نواے وقت، ہمارا عہد، لاالٰہ الا اللہ، ہمارا شہر، پیغام، نذرِ اقبال، بولتے الفاظ، اردو، یادوں کی لکیر، یادِ حسینؓ، غریب نوازؒ کے علاوہ چند مراثی کو مطالعے کے دائرے میں رکھا جا سکتا ہے۔
فنکار جس ماحول میں آنکھیں کھولتا ہے، زندگی کرتا ہے اس کے پر تو حال میں اس کے اشعار میں ہوتے ہیں ابوالخیر نشتر کی نظمیہ شاعری کا وہ حصہ جو آزاد اور معّرا نظموں کی صورت میں ہے بہت خاص ہے۔ ان میں بیشتر نظمیں شاہ کار ہیں۔ لفظوں کا در و بست، اس کا آہنگ، روانی، قافیہ ردیف کا بہترین استعمال اور ان کا مجموعی تاثر سب اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہاں سماج اور افراد کا کرب شاعری کا اصل موضوع ہے۔ عمومی طور پر زندگی کے درد و الم کو خوب صورت پیرایے میں رکھنے کا ہنر اِن نظموں میں موجود ہے۔ شاعر سسکتی، بلکتی آوازوں کو اپنے طرز پر شعری جامہ پہناتا ہے لیکن رونے کی عمومی کیفیت کی طرح نہیں۔ آنسو نہیں آئے، اس کا منفی اثر کسی دوسرے پر نہیں ہو اس کا التزام ان نظموں میں ہے۔ بدلے میں حوصلہ، جوش، ولولہ، امنگ کم نہیں ہو پائے، ساتھ ہی عزائم بلند رکھنا اولین فرض سمجھا جاتا ہے:
شبِ سیاہ جا رہی ہے روشنی قریب ہے
حصارِ موت سے بڑھو کہ زندگی قریب ہے
سرور و کیف و آگہی، ہما ہمی قریب ہے
(نظم ’نوائے وقت‘ سے)
حالاں کہ ابوالخیر نشتر نے شخصی تاثراتی نظمیں خوب لکھی ہیں اور ان کے لیے خاص طور سے پابند شاعری کو چنا ہے۔ جب کہ کچھ تاثراتی نظمیں آزاد شاعری میں بھی اپنا جلوہ دکھا رہی ہیں۔ جب نگاہیں نذرِ اقبال سے ہٹتی ہیں تو نذرِ غلام سرور پر ٹکتی ہیں۔ اردو کے لیے نہایت اہم شخصیت غلام سرور کی رہی ہے، بہار کے حوالے سے انھیں بطور خاص یاد کیا جاتا ہے۔ ابوالخیر نشتر نے تو اپنے بارے میں لکھتے ہوئے ان کا تذکرہ بھی کیا ہے اور اپنی زندگی میں ان کی اہمیت کا اشارہ بھی کیا ہے انھوں نے غلام سرور کی شخصیت پر بھرپور نظم بولتے الفاظ بھی لکھی ہے چند مصرعے دیکھیے:
اے شیر دل تیری عظمت کا معترف ہے جہاں
قلم سے تیغ برہنہ کا تو نے کام لیا
نقوشِ عزم زمانہ مٹا سکے گا کہاں
نئی سحر کے مسیحا نئے سفر کے امام!
نظم صاحب دیوان میں ان کے جذبات کے اظہار نے شاعری کو شاعری بنا دیا ہے۔ نظم کا ابتدائی شعر ملاحظہ ہو:
رونق محفل وقارِ شاعری
صاحب دیوان اشرف قادری
پوری نظم اشرف قادری کی خوبیوں کا بر ملا اظہار کے لیے وقف ہے آخری اشعار میں نظم کے اختتام کے قریب کا شعر کی تابانی دیکھیے اور محسوس کیجیے:
ہر طرف بے چہرگی کی بھیڑ میں
اک ملے انسان اشرف قادری
جہاں یہ دعوا کیا جا رہا ہے کہ دنیا جمہوریت کے بڑے دور سے گزر رہی ہے، انصاف اور امن کا بول بالا ہے۔ وہاں ظلم و جبر دیکھ کر آنکھوں سے آنسو نہیں بلکہ خون اتر آتے ہیں۔ مزدوروں، بھوک پیاس سے تڑپنے والوں اور بے گھر لوگوں کا مسئلہ آج بھی کھڑا ہے۔ سرد راتوں کے ظلم کو بہت سارے ادیبوں، شاعروں نے اپنے فن پاروں میں رکھا ہے۔ ایسے ہی حالات کی عکاسی جہاں انسانی جسم و جاں کی بے قدری کا نظارا ہے۔ ابوالخیر نشتر کے قلم سے ان کی نظم، جشنِ جمہوریت سے:
قہر موسم کا نازل ہو رہا ہے/ ہوا نکلی ہے تن پر اوڑھ کر برفیلی چادر
یہ غربت کے ستائے لوگ جن کے/ بدن عریاں ہیں / اور ہے پیٹ خالی
ہر اک چہرہ سوالی۔۔۔۔۔۔یہ کیسے لوگ ہیں کہ جی رہے ہیں
1986ء میں ہوئے دنگے کو شاعر نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ چند زخموں اور ان زخمیوں کی بے توجہی برتتی بتیا اسپتال انتظامیہ پر بھی شاعر دل برداشتہ ہوتا ہے تو ’عجب منظر ہے‘ کے عنوان سے ایک نظم وجود میں آتی ہے:
یہ وہ جگہ ہے جہاں
کسی کی موت پر کرب و بلا کا ماتم ہے
کہیں کفن کے لیے بھیک مانگتے انساں
ہر اک موڑ پہ انسانیت سسکتی ہے
مزاج اس قدر عامر ہے نگہہ بانوں کا
کسی کے حصّے میں پھولوں سمیت شاخ بھی ہے/ کسی کی روح ترستی ہے بوئے گلشن کو/ یہ ہسپتال کا منظر/ عجیب منظر ہے
آپ اس نظم میں یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ کتنے خوبصورت اور علامتی انداز میں آدمی کی بدنصیبی درد و کرب اور سماج کے تعصب کا ذکر کیا ہے۔ پھولوں سمیت شاخ اور بوئے گلشن کی تشبیہ کتنی کارگر اور شاعرانہ ہے۔
فکری معرکے کو اور اونچائی دیتی ہوئی ایک نظم خود شناس حاضر کرتا ہوں دیکھیے:
ذہن پریشاں / بھوک کی شدت/ چاک گریباں / جسم پہ شکنیں / پیٹ ہے خالی/ چہرے کی تحریر مثالی/ گھر گھر اس کا رشتہ لیکن/ شہر میں وہ انجان بنا ہے۔(خود شناس سے)
نظم کی تصویر کشی کم لفظوں میں کمال کی ہے
ان کی نظموں میں سب سے زیادہ پسندیدہ کرب آشنا ہے۔ یہ نظم فکری اعتبار سے بھی بلند ہے اور فنی نظریے سے بھی کافی گہرائی لیے ہوئے ہے۔ اس نظم میں آبشار کی طرح روانی بہت خاص بنانے میں بے حد اہم ہے۔ چندحصے نظم کے گوش گزار کریں:
۱۔ خود سے بد گماں ہو کر/ پتھروں کی بستی میں جب بھی گھر بناتا ہوں / ظرف کے پہاڑوں سے بے خودی میں ٹکرا کے/ رو بہ رو نگاہوں کے/ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں۔۔۔۔
۲۔ پتھروں کی بستی سے دو قدم نکلتا ہوں / اک صدا ابھرتی ہے/ قلب کی چٹانوں سے/ کرب کے سمندر میں / روشنی کا سورج ہے
۳۔ کرب آشنا ٹھہرا/ سوچتا ہوں کیا ہوگا/ سوچنے سے کیا حاصل/ سوچنے کا مقصد کیا/ جب میرے عزائم اور حوصلے نہیں تھکتے۔
ابوالخیر نشتر شاعری کے دونوں محاذ غزل و نظم پر یکساں کامیاب نظر آتے ہیں۔ غزلوں میں فن کاری شاعری کا حسن سنوارنے کی طرف مائل ہے تو نظموں میں خاص طور سے معّرا نظموں میں سماج و انفرادی تاثرات کا بحرِ بے کراں رواں ہے۔ کامیابی یہاں بھی قدم چوم رہی ہے لیکن ایک الگ جذبے کے ساتھ۔
***
آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں : صفدر امام قادری کے لیے ظفر کمالی کی ‘سوغات`