کتاب: غالب کے فارسی قطعات کی تاریخی اہمیت

کتاب: غالب کے فارسی قطعات کی تاریخی اہمیت

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

ڈاکٹر محمد امین عامر (ولادت 28 مئی 1950ء) بن حافظ محمد ابراہیم مرحوم اس وقت فارسی زبان و ادب کے بڑے محقق ہیں، انھوں نے ایم. اے تو اردو، فارسی زبان و ادب میں کیا لیکن پی. ایچ. ڈی کے لیے فارسی کا انتخاب کیا اور اسی میں داد تحقیق دے کر ڈاکٹر بن گئے، مشغلہ درس و تدریس کا رہا، مولانا آزاد کالج کے شعبۂ فارسی کے لکچرر کے طور پر بھی جز وقتی کام کیا، ہوڑہ ہاٹ سکنڈری اسکول میں بھی فارسی کے جز وقتی استاذ رہے، تحقیق و تنقید اور ایڈیشن ورک کے لیے بھی انھوں نے اردو کے ساتھ فارسی کا انتخاب کیا، اردو و فارسی کے حوالے سے ان کی چودہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور تین منتظر اشاعت ہیں، ان میں سے دانش مندانہ فارسی در بنگالہ ایک ہے، مطبوعہ فارسی کتابوں میں دیوان عاقل خاں رازی (2010) دیوان چندر بھان برہمن (2008) دیوان صادق اختر (2016) کی ترتیب و تہذیب اور تعارف فارسی میں ان کی تحقیق کا بہترین نمونہ ہیں، انھوں نے زبان شیریں کے جدید فارسی درسی نصاب کے مطابق ایک کتاب بھی ترتیب دی ہے، ہندستان ہی کیا ایران چھوڑ کر پوری دنیا میں فارسی زبان کی بساط الٹ چکی ہے اور ہندستان میں تو مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد سے ہی یہ مثل مشہور ہوگئی تھی کہ "پڑھو فارسی بیچو تیل، دیکھو بھائی قدرت کا کھیل“ ، اس لیے اس دور میں فارسی زبان و ادب سے محبت اور اس پر کام کرنے کا جو حوصلہ اور جذبہ  ڈاکٹر محمد امین عامر میں ہے، وہ لائق ستائش بھی ہے اور قابل تقلید بھی، قابل تقلید اس لیے بھی کہ ہمارا بہت سارا مذہبی سرمایہ اور درس نظامی کی کئی ایک نصابی کتابیں آج بھی فارسی زبان میں ہیں، اگر اس طرف توجہ نہ دی گئی تو ان سر مایوں سے استفادہ انتہائی مشکل ہو جائے گا، لائق تحسین اس لیے کہ اس زبان پر کام کرنے میں مادی منفعت کا شائبہ نہیں پایا جاتا اور جب مال و زر کے حصول کی للک نہ ہو تو کون مغز پیچی کرتا ہے اس ناحیہ سے دیکھیں تو ہمیں ڈاکٹر محمد امین عامر کی کتاب "غالب کے فارسی قطعات کی تاریخی اہمیت" کا ادراک اور احساس ہوتا ہے۔ غالب کی شاعری میں ہم نے اردو شاعری کو سروں پر اٹھا رکھا ہے، لیکن خود غالب کے نزدیک ان کے فارسی اشعار زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، ہماری نئی نسل چوں کہ فارسی زبان سے نابلد اور نا آشنا ہے، اس لیے وہ نہ غالب کے فارسی کلام کو سمجھ پارہی ہے اور نہ اقبال کے فارسی کلام کو، اچھی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عامر نے غالب کے مختلف دیوان اور دوسرے ذرائع سے حاصل شدہ قطعات کو یک جا کر دیا ہے، یہ ایک سو چھ قطعات ہیں، چوں کہ ان کو معلوم ہے کہ ان قطعات کے معنی، مطالب اور تاریخی احوال و کوائف تک ہماری رسائی بغیر ترجمہ اور تشریح کے نہیں ہو سکتی، اس لیے قطعات کے متن کے ساتھ ترجمہ و تشریح اور تاریخی احوال و واقعات پر بھی اپنی توجہ انھوں نے مرکوز رکھی ہے اور ہمیں ان قطعات کے دروبست تک پہنچانے کی بڑی عمدہ اور مفید کوشش کی ہے، کہیں خود تشریح کر کے اور کہیں دوسرے کی تشریح نقل کرکے۔
غالب کے قطعات مختلف عنوانات پر پائے جاتے ہیں، مصنف نے قطعات کی درجہ بندی کر دی ہے، یہ درجہ بندی باب کے عنوان کے بغیر ہے، درجہ بندی کے لیے جو عنوانات مقرر کیے ہیں، ان میں قطعات حسب و نسب، قطعات ولادت، قطعات تہنیت شادی، قطعات تعمیرات، قطعات مدحیات، قطعات تالیفات و تصنيفات، قطعات مختلف موضوعات، قطعات وفیات، قطعات ضمیمہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں، قطعات کے قبل عہد غالب کے سیاسی پس منظر، سماجی، معاشرتی و اقتصادی احوال، مذہبی مراسم عقائد و عبادات، علوم و تمدن، فنون لطیفہ، احوال و آثار، آثار غالب، معاصرین غالب اور غالب کے فارسی قطعات تاریخی تناظر میں کے عنوانات پر تحقیقی گفتگو کی ہے، یہ عنوانات الگ الگ ضرور ہیں، لیکن اس طرح مربوط ہیں کہ آپ اس تحریر کو کتاب کا مقدمہ سمجھ سکتے ہیں، یہ کتاب مغربی بنگال اردو اکادمی کے صرفہ پر تیار ہو کر طبع ہوئی ہے، اس لیے اسی کے نام منسوب ہے، وجہ یہ لکھا ہے کہ وہ "اسکالروں سے تحقیقی کام کرانے کا شرف حاصل کرتی ہے"، تین سو چھہتر صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت دو سو چونسٹھ روپے معقول ہے، کمپوزنگ ضیاء الحق کی ہے اور زیڈ زیڈ پرنٹر سے کتاب طبع ہوئی ہے، ناشر مغربی بنگال اردو اکیڈمی 75/2 رفیع احمد قدوائی روڈ، کولکاتہ – 16 ہے، ملنے کا پتہ درج نہیں ہے، خواہش مند حضرات مغربی بنگال اردو اکیڈمی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
کتاب کو معاصر جدید تحقیق کے مطابق بنانے کے لیے حوالہ جاتی کتب، رسائل و جرائد اور اشخاص و افراد کا اشاریہ بھی تفصیل سے مرتب کیا گیا ہے، یہ خود بڑا پتہ ماری کا کام ہے، اشخاص کے ساتھ اگر مقامات کا انڈکس بھی بنا دیا جاتا تو اچھی بات ہوتی، اس کی کمی اس کتاب میں کھٹکتی ہے، اس کتاب کا بڑا قیمتی حصہ قطعات کی تاریخی اہمیت اور واقعات کی تعیین ہے، افراد کے احوال و آثار مقامات کی وضاحت اور قطعات کے شان ورود کا ذکر آسان کام نہیں ہے، اس کی اہمیت کچھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں، جنھوں نے اس قسم کے کاموں میں کبھی ہاتھ ڈالا ہو، غالب پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، آئندہ بھی لکھا جاتا رہے گا، لیکن صرف قطعات پر میری نظر سے کوئی کتاب نہیں گذری، غالباً غالب کے قطعات پر الگ سے نہیں لکھا گیا ہے، اس موضوع کے مشمولات ضمناً کتابوں میں درج ہوئے ہیں، اس موضوع پر مشتمل کتاب کی تصنیف میری نظر میں ڈاکٹر محمد امین عامر صاحب کی اولیات میں ہے، اس کے لیے علمی دنیا کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے اور ان کی تحقیق کی داد دینی چاہیے، میری ملاقات ڈاکٹر محمد امین عامر سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ انھیں نہ صلہ کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ستائش کی تمنا، اہل علم کا ہمیشہ سے یہی شیوہ رہا ہے۔
***
صاحب تبصرہ کی گذشتہ نگارش: پروفیسر نجم الہدیٰ __ہم تجھے بھلا نہ پائیں گے

شیئر کیجیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے